گرمی پڑے گی لیکن اتنی نہیں

    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کے محکمہ موسمیات کے مطابق اس سال کراچی سمیت سندھ کے جنوبی علاقوں میں اچھی بارشیں ہونے کا امکان ہے تاہم درجہ حرارت مئی اور جون میں معمول سے زیادہ ہو سکتا ہے۔

محکمے کا کہنا ہے کہ جس قسم کی گرمی کی لہر گذشتہ سال تھی رواں سال اس کا امکان نظر نہیں آتا۔ گرمی کی پہلی لہر 22 اپریل سے 26 اپریل تک آئی جس میں مقامی میڈیا کے مطابق ہیٹ سٹروک کی وجہ سے ایک شخص ہلاک اور دو درجن کے قریب بے ہوش ہوئے۔

گذشتہ سال سمندری ہوائیں چلنا بند ہوگئی تھیں جس کے نتیجے میں درجہ حرارت 43 ڈگری سے بھی تجاوز کر گیا جس سے پیدا ہونے والی گھٹن، حبس اور گرمی میں 15 سو سے زائد افراد ہیٹ سٹروک کا شکار ہوئے اور ان کی موت واقع ہوئی۔

محکمہ موسمیات کے چیف میٹرولوجسٹ محمد حنیف کا کہنا ہے کہ کراچی سمیت سندھ میں گذشتہ تین سالوں سے معمول سے انتہائی کم بارشیں ہوئی تھیں لیکن اس سال جنوبی علاقوں میں اچھی بارشوں کے امکانات موجود ہیں۔

گرمی

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنمحکمہ موسمیات کے مطابق اس سال زیادہ گرمی کی توقع نہیں ہے

دو کروڑ کی آبادی والے ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پچھلے سال گرمی میں اضافے اور ہسپتالوں، سرد خانوں میں دیگر سہولیات میں کمی کی وجہ سے حکومت کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، لیکن رواں سال صوبائی اور شہری سطح پر حکام اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے کئی اجلاس منعقد کرا چکے ہیں۔

گذشتہ سال شہر کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال جناح پوسٹ گریجویٹ میں تین روز میں ہیٹ سٹروک سے متاثرہ دس ہزار سے زائد مریضوں کو طبی امداد فراہم کی گئی تھی، حالانکہ یہ ہپستال صرف 14 سو بستروں پر مشتمل ہے۔ حکومت نے اس سال جناح ہپستال سمیت 200 ہیٹ سٹروک سینٹر قائم کیے ہیں۔

جناح ہسپتال کے ڈائریکٹر انیس الدین بھٹی کا دعویٰ ہے کہ وہ صورت حال کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

’یہاں روزانہ پوری کراچی سے 11 سو سے 13 سو مریض روزانہ آتے ہیں۔ اس موسم میں ہیٹ سٹروک کے مریضوں کی بھی آمد ہوتی ہے لیکن مئی، جون اور جولائی میں ان مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ پچھلے سال یہ تعداد اس حد تک بڑہ گئی تھی جس کو ہم ماس ایمرجنسی یا ڈزاسٹر کہتے ہیں۔‘

کراچی میں ہلاکتیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنگذشتہ برس کراچی میں گرمی کی وجہ سے کم از کم پندرہ سو افراد ہلاک ہوئے تھے

ڈاکٹر انیس الدین نے ایمرجنسی کے پیچھے واقع ایک کمرا بھی دکھایا جہاں ایک درجن کے قریب خالی بسترے، تین وینٹی لیٹر، بڑی تعداد میں گلوکوز ڈرپس اور منرل واٹر کی بوتلیں موجود تھیں۔

’جناح ہپستال کی ایمرجنسی چونکہ ایئر کنڈیشنڈ ہے، اس کی وجہ سے لوگوں کی اولین ترجیح یہ ہسپتال ہی ہوتا ہے جہاں پچھلے سال کے تجربے کے پیش نظر اب جگہ، انفراسٹرکچر، سٹاف، دوائیں بیک اپ نظام بہتر ہوا ہے۔‘

گذشتہ سال شہر میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھنے کے بعد سرد خانوں میں لاشیں رکھنے کی گنجائش کم ہوگئی تھی۔ اس سال ان سرد خانوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے جن میں سے ایک سرد خانہ چھیپا فاؤنڈیشن کی جانب سے شاہراہ فیصل کے قریب قائم کیا گیا ہے۔

اس سرد خانے کے نگران حارث عباس نے بی بی سی کو بتایا کہ اس سرد خانے میں سو سے زائد لاشیں رکھی جا سکتی ہیں۔ ان کے مطابق اگر رواں سال گزشتہ سال جیسی صورتحال ہوئی تو انھوں نے اس سے نمٹنے کی تیاری کر رکھی ہے۔

’گزشتہ سال لاشیں برف کی سِلوں، ڈیپ فریزر اور شادی ہال میں رکھی گئی تھیں۔ تنظیم نے دیکھا کہ لوگ تکلیف میں ہیں تو انھوں نے سرد خانے پر کام کیا تاکہ لاشوں کی بے حرمتی نہ ہو اور کسی اچھی جگہ پر رکھا جائے۔‘

پچھلے سال ہلاک ہونے والوں میں سے بعض کی شناخت نہیں ہو سکی تھی اور ان کی تدفین ایدھی فاؤنڈیشن نے کی تھی۔ تنظیم نے رواں سال مواچھ گوٹھ میں اپنے قبرستان میں پہلے سے تین سو قبریں تیار کر رکھی ہیں اور حکام کو مشورہ دیا ہے کہ شہر کے مختلف قبرستانوں میں کم از کم 500 قبریں تیار ہونی چاہیں تاکہ کسی ناگہانی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔

ایدھی قبرستان میں قبروں کی کھدائی میں مصروف گورکن محمد بخش نے بتایا کہ گذشتہ سال یہاں روزانہ 15 سے 20 لاشیں آ رہی تھیں جن کو الگ الگ قبریں کھود کر دفنایا جا رہا تھا لیکن تعداد بڑھنے کے بعد انھوں نے ایدھی فاؤنڈیشن کو اطلاع دی جس کے بعد مشین کی مدد سے اجتماعی قبریں کھودی گئیں۔

حکومت نے متعلقہ اداروں کو بجلی اور پانی کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے، لیکن درختوں کی افزائش کی کوشش نظر نہیں آتی بلکہ اس کے برعکس ہی کام ہو رہا ہے۔ رواں ماہ میں صرف شاہراہ فیصل پر سے ہی ایک درجن کے قریب درخت کاٹے گئے ہیں۔