ایسا’پرسکون‘ پاکستانی میڈیا پہلی بار دیکھا

    • مصنف, ہارون رشید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا میں گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قاتل کی پھانسی کی سزا کی خبر سامنے آنے کے بعد سے ایک بات کی کمی دکھائی دی۔

نہ اس میں کسی بڑی خبر کے آنے کی بعد والی ہیجانی کیفیت تھی اور نہ ہی بریکنگ نیوز کی دوڑ میں سب کچھ دکھانے کا جذبہ۔

ایسا ’پرامن اور پرسکون‘ میڈیا شاید پہلی مرتبہ پاکستانی ناظرین کو دیکھنے کو ملا جس کی تعریف کیے بغیر نہیں رہا جا سکتا۔

صبح چھ بجے جب ممتاز قادری کی پھانسی کی خبر سامنے آئی تو اکا دکا چینلز نے ٹکر یا زیادہ سے زیادہ اپنے نامہ نگاروں سے مختصر ’بیپر‘ لیا لیکن نو بجے تک یہ خبر شہ سرخیوں میں کافی نیچے آ چکی تھی۔

یہ چینلوں کے معمول کے ’آگے دوڑ پیچھے چھوڑ‘ رویے کا مظہر تھا یا کچھ اور لیکن نہ تو اس پر طویل تجزیوں کے لیے سینیئر نامہ نگاروں اور تجزیہ نگاروں کو ان کے بستروں سے اٹھایا گیا اور نہ ڈی ایس این جیز چلانے والوں کو زیادہ مشکل میں ڈالا۔

نتیجہ یہ نکلا کہ ممتاز قادری کے حامی یا اس سے زیادہ محض تماشے کا شوق رکھنے والے شہری بھی گھروں تک ہی محدود رہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

وہ چینل جو چند افراد کے مجمعے کو گھنٹوں کوریج دینے سے نہیں تھکتے تھے اس مرتبہ بالغ نظری کا مظاہرہ کر رہے تھے۔ اگر لاہور اور اسلام آباد کی چند شاہراہیں احتجاج کرنے والوں نے بند بھی کیں تو اسے ہرگز بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کیا گیا۔

اس خبر کی اوقات محض ٹکرز تک ہی کی تھی لہذا چینلز نے اسے وہیں تک محدود رکھا ہاں اس محدود کوریج میں لوگوں کو سڑکوں پر احتجاج کی صورتحال سے آگاہ کرنا بھی بند کر دیا گیا جوکہ شاید درست نہیں تھا۔

کم از کم شہریوں کو یہ آگاہ کرتے رہنا چاہیے تھا کہ فلاں شاہراہ اتنے گھنٹوں سے بند ہے تک اس جانب جانے والے دوسرے راستے استعمال کرسکیں اور ٹریفک میں نہ پھنس جائیں۔

رات گئے کسی ٹی وی چینل نے ممتاز قادری کی سزا کو ٹاک شوز کا موضوع بھی نہیں بنایا جس سے یہ پیغام گیا کہ یہ معاملہ اب تک سزائے موت پانے والے ساڑھے تین سو مجرموں سے زیادہ مختلف نہیں۔

اس قسم کی ایک مثال افغانستان میں گذشتہ صدارتی انتخاب کے دوران سامنے آئی تھی جب پولنگ کے روز شدت پسندوں نے اپنی سی کی لیکن افغان میڈیا نے تمام تر توجہ ووٹروں کی بڑی تعداد کے پولنگ سٹیشنوں پر آنے تک محدود رکھی جس کا اثر یہ ہوا کہ عام افغانوں کا اعتماد بڑھا اور انھوں نے بےخوف ہو کر رائے دہی کا حق استعمال کیا اور ریکارڈ ٹرن آؤٹ رہا۔

لاہور اور اسلام آباد کی چند شاہراہیں احتجاج کرنے والوں نے بند بھی کیں تو اسے میڈیا پر بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کیا گیا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنلاہور اور اسلام آباد کی چند شاہراہیں احتجاج کرنے والوں نے بند بھی کیں تو اسے میڈیا پر بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کیا گیا

کل سے لے کر آج تک ممتاز قادری کی پھانسی اور اس کے بعد کی کوریج سے صاف ظاہر اور ثابت ہوا ہے کہ پاکستان میں میڈیا کا کردار کتنا اہم ہے۔

اخباری اطلاعات کے مطابق اس طرح کی کوریج کا سہرا وفاقی وزارت اطلاعات اپنے سر لے رہی ہے۔

سیکریٹری اطلاعات عمران گردیزی نے سینیٹ کی ایک کمیٹی میں بیان دیا کہ انہوں نے اس خبر کے آنے کے فورا بعد اس کی نگرانی شروع کر دی تھی۔ اس مقصد کے لیے ڈائریکٹوریٹ آف میڈیا سرگرم ہے اور ’ہم نے چند گھنٹوں میں چینلزز کو پرسکون رہنے پر مائل کر لیا تھا۔‘

اس کے علاوہ یقیناً الیکٹرانک میڈیا کے ’چوکیدار‘ نے آج کل جو آنے ٹکے سیر چینلزز کو ٹریفک پولیس کی طرح چھوٹے چھوٹے جرمانے شروع کر رکھے ہیں تو اس نے بھی چینلز کو محتاط رہنے پر مجبور کیا ہوگا۔

یہ پیمرا کا وہ کردار ہے جو اس نے اب جا کر ادا کرنا شروع کیا ہے۔ جب تک سر پر ڈنڈا نہیں ہوگا مادر پدر آزاد کوریج کسی کے بھی فائدے میں نہیں۔

اخباری اطلاعات کے مطابق اس طرح کی کوریج کا سہرا وفاقی وزارت اطلاعات اپنے سر لے رہی ہے

،تصویر کا ذریعہbbc

،تصویر کا کیپشناخباری اطلاعات کے مطابق اس طرح کی کوریج کا سہرا وفاقی وزارت اطلاعات اپنے سر لے رہی ہے

یہاں ریاست کی ذمہ داریاں ختم نہیں ہو جاتیں کیونکہ میڈیا کی یہ ’بلوغت‘ ان کے لیے خطرات میں اضافے کا سبب بھی بن سکتی ہے جس کا چھوٹا سا ٹریلر ہم نے کل ہی ممتاز قادری کے حامیوں کی جانب سے صحافیوں اور ڈی ایس این جیز پر اکا دکا حملوں کی صورت میں دیکھا۔

میڈیا کوریج ایک منہ زور گھوڑے کی مانند ہے لیکن اسی گھوڑے کی بھرپور طاقت سے فائدہ اٹھانے کے بھی طریقے ہیں۔

ایک جمہوری ریاست کا کردار یہی تو ہے کہ وہ طاقت کا درست استعمال کیسے کرتی ہے لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ میڈیا کا یہ گھوڑا سیاست یا ریاستی اداروں کو اگر وہ کچھ غلط کر رہے ہیں تو دولتی نہیں مارے گا۔