مجوزہ سائبر کرائم بل: سیاسی رہنماؤں اورسول سوسائٹی کے تحفظات

 قانون میں شامل بعض نقاط جیسے سائبر دہشت گردی کی وضاحت نہیں کی گئی: قمر نسیم

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشن قانون میں شامل بعض نقاط جیسے سائبر دہشت گردی کی وضاحت نہیں کی گئی: قمر نسیم
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، سول سوسائٹی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سے وابستہ افراد نے مجوزہ سائبر کرائم بل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اس قانون کو اختلاف رائے کو دبانے کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔

منگل کو پشاور پریس کلب میں مجوزہ سائبر کرائم بل پر بات چیت مشاورتی نشست منعقد کی گئی۔ جس میں سیاسی جماعتوں اور قبائلی علاقوں کے مقامی رہنماؤں کے علاوہ انفارمیشن ٹیکنالوجی سے وابستہ افراد شریک تھے۔

انھوں نے کہا کہ موجودہ دور میں اس قانون کی اشد ضرورت ہے لیکن قانون عوام کی سہولت کے لیے ہونا چاہیے نہ کہ اس قانون کے ذریعے سیاسی مخالفین کی رائے کو دبایا جائے۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ مجوزہ قانون میں ایسے نقاط شامل ہیں جن کی وضاحت نہیں کی گئی۔ شرکا نے مبہم قانون پر اپنے خدشات کا اظہار کیا۔اس مشاورتی نشست میں قانون ساز اسمبلیوں سے کہا گیا ہے کہ ایسا کوئی قانون منظور نہ کیا جائے جس میں عوامی فلاح اور بنیادی حقوق کو مدِنظر نہ رکھا گیا ہو۔

خیبر پختونخوا سول سوسائٹی کے عہدیدار قمر نسیم نے بی بی سی کو بتایا کہ موجودہ حکومت کے سائبر کرائم بل بنایا ہے لیکن ابھی تک پارلیمان سے اس بل کی منظوری ہونا باقی ہے۔ انھوں نے کہا کہ قانون میں شامل بعض نقاط جیسے سائبر دہشت گردی کی وضاحت نہیں کی گئی۔

انھوں نے کہا کہ سٹیٹ سکیورٹی میں حکومتی اور سرکاری اداروں کے علاوہ عوام کی سکیورٹی کے حوالے سے ذکر نہیں ہے۔

سائبر کرائم بل یا پریوینشن آف الیکٹرانک کرائم بل 2015 موجودہ حکومت نے پیش کیا ہے جس پر ان دنوں ملک کے مختلف مقامات پر بحث کی جا رہی ہے

،تصویر کا ذریعہPA

،تصویر کا کیپشنسائبر کرائم بل یا پریوینشن آف الیکٹرانک کرائم بل 2015 موجودہ حکومت نے پیش کیا ہے جس پر ان دنوں ملک کے مختلف مقامات پر بحث کی جا رہی ہے

قمر نسیم نے بتایا کہ اس نشست میں یہاں بیشتر سیاسی جماعتوں کی نمائندگی ہے لیکن جماعت اسلامی اور جمعیت علما اسلام کے عہدیدار شامل نہیں ہے ۔

خیبر پختونخوا سول سوسائٹی کے مطابق اکثر سیاسی جماعتوں نے اس بل کو مسترد کیا ہے۔

بنیادی طور پر سائبر کرائم بل یا پریوینشن آف الیکٹرانک کرائم بل 2015 موجودہ حکومت نے پیش کیا ہے۔ ان دنوں ملک بھر میں اس پر بحث کی جا رہی ہے ۔

قائمہ کمیٹی سے بل منظور ہو گیا ہے۔جیسے اب پارلیمان میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

اس قانون سے انٹرنیٹ کے ذریعے کیے گئے جرائم کو روکنے میں مدد ملے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف فیس بک یا ٹوئٹر وغیرہ نہیں بلکہ اب لوگ خریدو فروخت اور بڑے معاہدے آن لائن یا انٹرنیٹ کے ذریعے کرتے ہیں اور انھیں تحفظ فراہم کرنے کے لیے قانون سازی کی جا رہی ہے ۔

اس بارے میں عوامی ورکر پارٹی کے رہنما انجینیئر فخر زمان نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت کو چاہیے کہ سائبر کرائم بل میں ان ترقی یافتہ ممالک کی مدد ضرور لینی چاہیے، جنھوں نے اس ضمن میں پہلے سے قانون سازی کر رکھی ہے۔

اس اجلاس میں سیاسی جماعتوں کے بڑے رہنما شریک نہیں ہوئے۔ منتظمین کا کہنا تھا کہ سائبر کرائم بل کے بارے میں تمام صوبوں سے رائے لے کر حتمیٰ سفارشات حکومت کو جلد پیش کر دی جائیں گی۔