کارکن کی پولیس تحویل میں ہلاکت کے بعد یومِ سوگ

،تصویر کا ذریعہepa
- مصنف, حسن کاظمی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے اپنے کارکن کی پولیس تحویل میں ہلاکت کے خلاف جمعرات کو یومِ سوگ منایا گیا جس سے شہر میں معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
ایم کیو ایم کے بلدیہ ٹاؤن سیکٹر کا کارکن محمد وسیم بدھ کو عزیز بھٹی تھانے میں پولیس کی حراست میں ہلاک ہوگیا تھا۔
اس ہلاکت کے خلاف ایم کیو ایم کی جانب سے دو روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا تھا۔
جمعرات کو سوگ کے پہلے دن شہر میں جزوی طور پر کاروباری مراکز اور دکانیں بند رہیں جبکہ سڑکوں پر بھی ٹریفک معمول سے کافی کم رہا۔
شہر کے تعلیمی اداروں اور جامعات میں گذشتہ شب ہی امتحانات ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا گیا تھا۔
محمد وسیم کی نمازِ جنازہ بھی جمعرات کو ہی بلدیہ ٹاؤن میں ادا کر دی گئی جس میں ان کی جماعت کے رہنماؤں کے علاوہ کارکنان نے شرکت کی۔
وسیم کی ابتدائی پوسٹ مارٹم میں بتایا گیا ہے کہ اس کی موت سر پر چوٹ لگنے سے ہوئی اور ان کے لواحقین نے جناح ہسپتال کے باہر احتجاج کیا اور سڑک بلاک کر دی۔
پولیس کی تحویل میں ہلاک ہونے والے ملزم محمد وسیم کو ڈالمیا سے منگل کی شب گرفتار کیا گیا تھا اور ملزم کے اہل خانہ نے الزام لگایا ہےکہ وہ پولیس کے تشدد سے ہلاک ہوا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ کراچی پولیس کے ایڈیشنل آئی جی غلام قادر تھیبو نے اس معاملے میں ڈی ایس پی ناصر لودھی اور عزیز بھٹی تھانے کے ایس ایچ او محمد مقصود کو فوری طور پر معطل کر دیا تھا۔
اس کے علاوہ تفتیشی ٹیم کے چار اہلکاروں کو بھی گرفتار کر کے قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔







