ایک سکول جو بچوں کے لیے امید کی علامت ہے

علاقے کے مقامی لوگوں کے مطابق تعلیم کی اہمیت کے حوالے سے صورتحال تبدیل ہو رہی ہے
،تصویر کا کیپشنعلاقے کے مقامی لوگوں کے مطابق تعلیم کی اہمیت کے حوالے سے صورتحال تبدیل ہو رہی ہے
    • مصنف, سید انور شاہ
    • عہدہ, سوات

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع ملاکنڈ کے دور افتادہ گاؤں نارنجی میں قائم ایک سکول اس علاقے کے بچوں کے لیے امید کی علامت ہے۔

پہاڑ کے ایک حصے کو کاٹ کر درخت کے شاخوں اور پتوں سے بنا پانچویں جماعت تک کے اس سکول میں سو کے قریب بچے زیرِتعلیم ہیں جن کے لیے صرف ایک ہی استاد ہے جو بیک وقت نرسری سے پانچویں جماعت تک پڑھاتے ہیں۔

اپنی نوعیت کے اس منفرد سکول کو مفت زمین دینے والے 70 سالہ لعل شریف کا تعلق اسی گاؤں سے ہے۔

لعل شریف نے سکول کے بارے میں بی بی سی کو بتایا کہ گاؤں کی آبادی چھ ہزار سے زیادہ ہے لیکن اس میں صرف گنتی کے چند لوگ ہی تعلیم یافتہ ہیں۔

’اس گاؤں میں کوئی بھی گرلز یا بوائز ہائی سکول نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس گاؤں کی کوئی بچی آج تک نہ تو سکول ٹیچر بن سکی اور نہ ہی کسی دوسرے شعبے میں جگہ بنا سکی، جب میں کسی اور علاقے میں جاتا اور بچوں کو سکول جاتے دیکھتا تو مجھے شدت کے ساتھ محسوس ہوتا کہ ہمارے گاؤں میں بھی سکول ہو جہاں بچے تعلیم حاصل کریں۔‘

اپنی نوعیت کے اس منفرد اسکول کو مفت زمین دینے والے 70 سالا لعل شریف کا تعلق اسی گاؤں سے ہے
،تصویر کا کیپشناپنی نوعیت کے اس منفرد اسکول کو مفت زمین دینے والے 70 سالا لعل شریف کا تعلق اسی گاؤں سے ہے

لعل شریف کے مطابق وہ خود بھی ناخواندہ ہے تاہم ان کا عزم ہے کہ وہ اپنے علاقے کے ہر بچے کو زیور تعلیم سے آراستہ کریں گے۔ چنانچہ انھوں نے اپنے گھر کے قریب پہاڑ کے ایک حصے کو کاٹ کر اور لکڑی اور درختوں کے شاخوں سے ایک سکول تعمیر کیا اور بعد میں اسے سرکار نے مکتب سکول کا درجہ دیا مگر 23 سال گزرنے کے بعد بھی یہ اس پرانی والی حالت میں اب بھی قائم ہے۔

لعل شریف کے دن کا آغاز سکول کی صفائی ستھرائی سے ہوتا ہے جس کے بعد وہ تین کلومیٹر دور ندی سے بچوں کے لیے پانی لاتے ہیں تا کہ بچے جھلسا دینے والی گرمی میں پیاسے نہ رہیں وہ یہ سارا کام بلامعاوضہ سر انجام دیتے ہیں کیونکہ اس سکول کو نہ تو سرکار کی طرف سے بنیادی سہولیات میسر ہے اور نہ کسی این جی او کی طرف سے دوسرے مراعات ، لیکن جب وہ خود نہیں ہوتے تو ان کی بیوی لعل ذادگئی یہ خدمات سرانجام دیتی ہیں۔

گاؤں کی آبادی چھ ہزار سے زیادہ ہے لیکن اس میں صرف گنتی کے چند لوگ ہی تعلیم یافتہ ہیں
،تصویر کا کیپشنگاؤں کی آبادی چھ ہزار سے زیادہ ہے لیکن اس میں صرف گنتی کے چند لوگ ہی تعلیم یافتہ ہیں

سکول میں چوتھی جماعت کی طالبہ ثوبیہ نے بتایا کہ’انھیں پڑھنے کا بہت شوق ہے اور وہ ملالہ جیسا بننا چاہتی ہیں اس لیے روزانہ نئے جذبے اور ولولے سے سکول آتی ہوں لیکن جب میں دیگر علاقوں کے سکولوں کو دیکھتی ہے تو اداس ہوتی ہوں کیونکہ ہمارے سکول میں دوسرے سکولوں کی طرح نہ تو بیٹھنے کے لیے کرسیاں ہیں اور نہ ڈیسک ، اس لیے ہم مٹی پر بیٹھتے ہے جس سے ہمارے سارہ کپڑے گرد الود ہو جاتے ہیں۔

علاقے کے مقامی لوگوں کے مطابق تعلیم کی اہمیت کے حوالے سے صورتحال تبدیل ہو رہی ہے یہی وجہ ہے کہ اب اس گاؤں کی سو کے قریب بچیاں روزانہ چھ کلومیٹر فاصلہ پیدل طے کرکے دوسرے گاؤں کے ہائی سکول میں پڑھنے جاتی ہیں۔