بلدیاتی انتخابات، کاغذاتِ نامزدگی کی آخری تاریخ 17 اپریل

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں 30 مئی کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ صوبے کی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ تحصیل اور ضلع کونسل کے انتخابات جماعتی بنیادوں پر منعقد کرائے جارہے ہیں جبکہ گاؤں کونسل کا انتخاب غیر جماعتی بنیادوں پر کرایا جارہا ہے۔
خیبر پختونخوا کے الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی آخری تاریخ 17 اپریل مقرر کی گئی ہے۔
کاغدات کی جانچ پڑتال کا عمل 20 سے 28 اپریل تک مکمل کیا جائے گا جبکہ امیدواروں کی حمتی فہرست انتخابی نشان کے ساتھ چھ مئی کو جاری کی جائے گی۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ صوبے کے 24 اضلاع میں انتخابات کرائے جائیں گے تاہم ضلع کوہستان میں عدالتی فیصلے کے باعث انتخابی عمل ملتوی کردیا گیا ہے۔ صوبہ بھر کے تمام یونین کونسلوں کے 1484 نشستوں پر امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا جس میں 978 سیٹیں جنرل کونسلروں کےلیے مختص کی گئی ہیں، 324 نشستیں خواتین کےلیے اور 59 نشستیں غیر مسلم، مزدور کسان اور یوتھ (نوجوان) کےلیے مقرر کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تقریباً اتنی ہی نشستیں تحصیل کونسلوں کے لیے بھی مختص کی گئی ہے۔ خیبر پختونخوا لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کے مطابق صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ضلع اور تحصیل کونسل کا انتخاب جماعتی بنیادوں پر منعقد کرایا جارہا ہے تاہم گاؤں کونسل کا انتخاب غیر جماعتی بنیادوں پر کیا جارہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ادھر خیبر پختونخوا کے وزیر بلدیات عنایت اللہ خان نے دعویٰ کیا ہے کہ نئے بلدیاتی نظام میں اختیارات آئین کی اصل روح کے مطابق نچلی سطح پر منتقل کیے جا رہے ہیں، جس کا سب سے بڑا فائدہ عوام کو حاصل ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ نیا نظام پچھلے ادوار میں نفاذ کیے گئے نظاموں سے نہ صرف مختلف ہے بلکہ موثر بھی ہے جس میں عوامی مسائل کے حل کو یقینی بنایا گیا ہے۔
ان کے مطابق صوبائی حکومت حقیقی بنیادوں پر اختیارات نچلی سطح پر منتقل کر رہی ہے جس میں 50 فیصد فنڈز ضلعی حکومتوں کو دیے جائیں گے جس سے مقامی سطح پر ترقیاتی کاموں کی نئی راہیں کھلیں گی اور عوام کے مسائل حل ہوں گے۔
تاہم حزب اختلاف کی بعض سیاسی جماعتوں کی طرف سے نئے بلدیاتی نظام کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا جاتا رہا ہے، ان کا کہنا ہے اوپر سے لے کر نیچے تک یکساں نظام ہونا چاہیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کے مطابق یہ کیسا نظام ہے جس میں ضلع اور تحصیل کونسلوں کا انتخاب تو جماعتی بنیادوں پر کرایا جا رہا ہے لیکن گاؤں کونسل کا غیر جماعتی سطح پر جس سے کرپشن اور ہارس ٹریڈنگ کی نئی راہیں کھلیں گی۔







