بلوچستان میں سرچ آپریشن کے خلاف شٹرڈاؤن ہڑتال

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے بلوچ آبادی والے متعدد علاقوں میں سیکورٹی فورسز کے مبینہ سرچ آپریشن کے خلاف اتوار کو شٹرڈاؤن ہڑتال کی گئی۔
اس ہڑتال کی کال سخت گیر موقف کے حامل قوم پرست جماعتوں کے اتحاد بلوچ نیشنل فرنٹ نے دی تھی۔
ہڑتال کے باعث کوئٹہ، مکران اور قلات ڈویژن کے متعدد شہروں میں کاروباری مراکز بند رہے۔
فرنٹ کی جانب سے ہڑتال کی یہ کال آواران، پنجگور اور دیگر علاقوں میں سیکورٹی فورسز کے مبینہ سرچ آپریشن کے خلاف دی گئی تھی۔
فرنٹ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں الزام عائد کیا گیا کہ گزشتہ جمعہ کو مشکے میں ایک گاؤں پر مبینہ طور پرشیلنگ کی گئی۔
ایک گھر پر شیل گرنے سے ایک ہی خا ندان کے چھ افراد ہلاک ہوئے جن میں ایک خاتون بھی شامل تھی۔ بیان کے مطابق پنجگور کے کئی علاقوں میں بھی شیلنگ کی گئی۔
بلوچستان کے سیکریٹری داخلہ اکبر حسین درانی نے آواران کے علاقے مشکے میں سرچ آپریشن میں عام شہریوں کی ہلاکت کے الزام کو سختی سے مسترد کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی عسکریت پسندوں کے کیمپ کے خلاف کی گئی۔ انھوں نے بتایا کہ اس سرچ آپریشن میں تین شرپسند مارے گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سیکریٹری داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ جس کیمپ کے خلاف کارروائی کی گئی اس کے لوگ سیکورٹی فورسز اور دیگر سرکاری تنصیبات پر حملوں میں ملوث تھے۔
یاد رہے کہ دو دن قبل فرنٹیئر کور نے خضدارکے علاقے مشکےمیں آپریشن کیا تھا جس میں چار عسکریت پسند اور ایف سی کا ایک اہلکار ہلاک ہو گیا تھا۔
حکام کے مطابق سرچ آپریشن اس علاقے میں ایک کالعدم تنظیم کے کیمپ کی موجودگی کی اطلاع پر کیا گیا تھا۔
دوسری جانب کالعدم عسکریت پسند تنظیم لشکر بلوچستان نے میڈیا کو ایک بیان جاری کیا تھا جس میں بسیمہ کے علاقے میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں ایک کمانڈر سمیت تنظیم کے تین عسکریت پسندوں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی تھی۔







