’حکومت حالتِ جنگ کا اعلان کر دے‘

گذشتہ ماہ کی 16 تاریخ کو پشاور میں ایک سکول پر حملے کے بعد حکومت نے فوجی عدالتیں بنانے کا عندیہ ظاہر کیا تھا

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنگذشتہ ماہ کی 16 تاریخ کو پشاور میں ایک سکول پر حملے کے بعد حکومت نے فوجی عدالتیں بنانے کا عندیہ ظاہر کیا تھا
    • مصنف, آصف فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

بین الاقوامی قانون کے ماہر سابق وزیر قانون احمر بلال صوفی نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ شدت پسندی کے خلاف جنگ کا باضابطہ اعلان کر کے ملک میں جنگ کا قانون نافذ کر دے تو اس کے تحت فوجی عدالتیں بنائی جا سکتی ہیں جنھیں بین الاقوامی اور مقامی قانون اور آئینی تحفظ حاصل ہو گا۔

’اگر حکومت آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت حالت جنگ میں ہونے کا اعلان کر دے تو اسے بعض بنیادی حقوق معطل کرنے کا اختیار مل جائے گا جس کے بعد فوجی عدالتوں جیسے بعض دیگر فیصلے کرنے میں آسانی ہو گی۔‘

بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ اس صورت میں حکومت کو نہ تو آئین میں ترمیم کی ضرورت پڑے گی اور نہ ہی اس طرح بننے والی عدالتوں کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جا سکے گا۔

’لیکن ایسا کرنے کے لیے حکومت کو باضابطہ نوٹیفیکشن جاری کرنا پڑے گا کہ وہ کسی ایسی جماعت، گروہ یا افراد کے خلاف حالتِ جنگ میں ہے جس نے پاکستانی آئین کو ماننے سے انکار کیا ہے اور ان سے پاکستانی شہریوں کی جانوں کو خطرات لاحق ہیں۔‘

احمر بلال صوفی کا کہنا تھا کہ اس صورت میں حکومت ہائیکورٹ کی انسانی حقوق سے متعلق مقدمات سننے کے اختیار کو معطل کر سکتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ قانون جنگ بین الاقوامی سطح پر قابل قبول ہے اور بہت سے ملکوں میں اس سے پہلے استعمال کیا جا چکا ہے۔

’اس کی تازہ مثال عراق کی ہے جہاں اسی طریقے کو استعمال کر کے خصوصی عدالتیں لگائی گئیں۔ اسی طرح بنگلہ دیش نے بھی 1971 کے بعد انھی اختیارات کو استعمال کرکے خصوصی عدالتیں بنائیں جنھوں نے متعدد افراد کو پھانسی کی سزا بھی سنائی۔‘

ملک کے اس نامور آئینی ماہر کے مطابق جنگی حالت میں ہونے کی صورت میں خصوصی عدالتوں کی سیاسی مخالفت بھی کم ہو جائے گی۔

میں ذاتی طور پر خصوصی فوجی عدالتوں کے قیام کے خلاف ہوں اگر وہ جنگی حالت نافذ کیے بغیر بنائی جائیں کیونکہ اس صورت میں یہ عدالتیں ایک مستقل اور متوازی نظام عدل بن جائیں گی
،تصویر کا کیپشنمیں ذاتی طور پر خصوصی فوجی عدالتوں کے قیام کے خلاف ہوں اگر وہ جنگی حالت نافذ کیے بغیر بنائی جائیں کیونکہ اس صورت میں یہ عدالتیں ایک مستقل اور متوازی نظام عدل بن جائیں گی

میں ذاتی طور پر خصوصی فوجی عدالتوں کے قیام کے خلاف ہوں اگر وہ جنگی حالت نافذ کیے بغیر بنائی جائیں کیونکہ اس صورت میں یہ عدالتیں ایک مستقل اور متوازی نظام عدل بن جائیں گی۔‘

البتہ انھوں نے کہا کہ آرٹیکل 245 کے تحت حکومت کو ایک خاص مدت اور علاقے کا تعین کرنا ہوگا جس دوران یہ خصوصی فوجی عدالتیں بنائی جا سکیں گی۔ اس طرح یہ ملک کے سول عدالتی نظام سے متصادم نہیں ہوں گی۔

انھوں نے کہا کہ ان خصوصی عدالتوں کی مخالفت بھی اسی لیے ہو رہی ہے کہ حکومت ابھی تک یہ وضاحت نہیں کر پائی کہ مجوزہ نظام جنگی حالت کے باعث محدود وقت اور علاقے کے لیے اور مخصوص افراد یا گروہوں کے خلاف ہے۔

"حکومت کو جلد از جلد یہ فیصلہ اور اعلان کرنا چاہیے تاکہ حکومت کے انسداد دہشت گردی کے منصوبے کی سیاسی مخالفت کم کرکے اسے فوراً عملی جامہ پہنایا جا سکے۔"

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے آئین میں جنگ کے قانون کو علیحدہ سے ایک باب کی شکل میں قلم بند نہیں کیا گیا ہے لیکن مختلف آرٹیکلز کو ملا کر اس پر عمل کرنا بآسانی ممکن ہے۔ "حکومت کو تھوڑی سی توجہ اور محنت کر کے ان آرٹیکلز کو جمع کر کے انہیں استعمال میں لائے۔"