کیا فوج ہی ہر مرض کی دوا ہے؟

،تصویر کا ذریعہPID
- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں دن بدن فوج کا کردار بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ پاک فوج بظاہر ہر مرض کی دوا بن چکی ہے۔ اس میں کوئی مذائقہ نہیں کیونکہ فوج بلاخر اسی ملک کی ہے لیکن شدت پسندی کے جن کو واپس بوتل میں بند کرنے کے لیے سیاستدانوں اور فوج کو کس حد تک جانا ہوگا۔ اس خونی کشمکش میں کوئی ’فنش لائن‘ بھی نظر میں ہے یا نہیں؟
فوجی عدالتوں کے قیام کے فیصلے کے ردعمل میں ایک مرتبہ پھر پوچھا جا رہا ہے کہ عدلیہ میں اصلاحات یا اسے ہنگامی بنیادوں پر بہتر بنانے کی بجائے ایک مرتبہ پھر فوجی عدالتوں کا سہارا کیوں لیا جا رہا ہے، فوج کو زیادہ کردار کیوں دیا جا رہا ہے۔
شدت پسندی سے بری طرح متاثر پاکستان میں شاید ہی کسی کو اس بات پر شک و شبہ ہو کہ پرتشدد کارروائیوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ اس میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے میں تاخیر ہے۔ قانون کی پکڑ کمزور پائی گئی ہے۔
ان لوگوں نے جنہوں نے سب کی آنکھوں کے سامنے قتل کئے اور بعد میں اقبال جرم کیا وہ بھی اب تک اپنے کئے کی سزا نہیں پا سکے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ موجودہ قانونی نظام کی گرفت کو مضبوط بنانے کی کوشش ہوتی لیکن ایسا محسوس ہوتا کہ بعض سیاسی جماعتوں نے نہ چاہتے ہوئے بھی فوج کو ایک مرتبہ پھر اس میں ملوث کر دیا ہے۔
جنگی صورتحال سے نمٹنے کی اپنی بنیادی ذمہ داری کے علاوہ فوج کو سیاست دانوں نے ہر مرض کی دوا بنا دیا ہے۔ عام انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کے لیے فوج، دھرنے ختم کروانے کے لیے فوج کی مدد، پولیو مہم میں اس کا سہارا، اور قدرتی آفات اور امن عامہ کے لیے فوج۔
موقر انگریزی اخبار ڈان نے آج کے اپنے اداریے میں اسے بات پر بظاہر افسوس کیا ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ ’ایک سویلین قیادت میں قائم عدالتی نظام کو بائی پاس کرنا محض اس لیے کہ اس کے فیصلوں پر عمل درآمد میں نقص ہو کیا دانش مندی ہے؟‘
کیا یہ بہتر نہیں تھا کہ عدلیہ کی مشاورت سے ایسے اقدامات اٹھائے جاتے کہ مقدمات میں تاخیر کو ختم کیا جاسکتا؟ اخبار آخر میں لکھتا ہے کہ دشمن سے اس لڑائی میں اپنے جمہوری تشخص سے ہاتھ نہیں دھونا چاہیے۔
حقوق انسانی کے سینئیر کارکن آئی اے رحمان نے اسی اخبار میں آج ایک مضمون میں لکھا ہے کہ پاکستانی میڈیا کو غصے اور جذبات کو ایک جانب رکھ کر سنجیدہ، دانش مندانہ اور انسانی راستہ اپنانے کی بات کرنی چاہیے۔ ’اسے (میڈیا) کو چاہیے کہ وہ قیادت کو یہ یاد دلاتا رہے کہ محض غصے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اردو اخبار نوائے وقت نے اپنے اداریہ میں اس امید کا اظہار کیا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت اور فوج پرعزم دکھائی دیتی ہے۔ ’حکومت، فوج اور قوم اگر اسی عزم کے ساتھ دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے ڈٹے رہے تو جلد اس ناسورسے نجات مل جائے گی۔‘
پاکستان میں ماضی میں بھی دو مرتبہ فوجی عدالتوں کا تجربہ کیا گیا لیکن وہ کامیاب ثابت نہیں ہوسکا۔ اس مرتبہ اگر فوج کو اس میں ملوث کرنا ہی ہے تو امید کی جاسکتی ہے کہ زیادہ بردباری کے ساتھ اور انصاف کے تقاضے مد نطر رکھ کر ایسے اقدامات اٹھائے جائیں گے کہ کسی بےقصور کو غصے کی آگ میں سولی پر نہ لٹکا دیا جائے۔
اخبار دی نیشن لکھتا ہے کہ انتہائی اقدامات کے مطالبے کے دباؤ میں حقائق اور وجوہات کو نظر انداز نہ کیا جائے۔







