فوج کی سربراہی میں سپیشل ٹرائل کورٹس پر سیاسی اتفاق

وزیراعظم کی سربراہی میں بدھ کی صبح گیارہ بجے کل جماعتی کانفرنس کا آغاز ہوا جو تقریباً گیارہ گھنٹے جاری رہا

،تصویر کا ذریعہPID

،تصویر کا کیپشنوزیراعظم کی سربراہی میں بدھ کی صبح گیارہ بجے کل جماعتی کانفرنس کا آغاز ہوا جو تقریباً گیارہ گھنٹے جاری رہا

حکومت اور پارلیمانی جماعتوں نے انسدادِ دہشت گردی کے لیے سپیشل ٹرائل کورٹس سمیت ’قومی ایکشن پلان‘ پر اتفاق رائے کر لیا ہے جسے وزیراعظم نواز شریف نے تاریخ ساز قرار لمحہ قرار دیا ہے۔

وزیراعظم کی سربراہی میں بدھ کی صبح گیارہ بجے کل جماعتی کانفرنس کا آغاز ہوا جو تقریباً گیارہ گھنٹے جاری رہا۔

اجلاس میں فوجی عدالتوں جنھیں ’سپیشل ٹرائل کورٹس‘ کا نام دیا گیا ہے کے قیام پر حکومت اور پارلیمانی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے ہو گیا۔

اجلاس کے بعد پیپلز پارٹی کے رہنما قمرالزمان کائرہ نے میڈیا کو بتایا کہ سپیشل ٹرائل کورٹس کی سربراہی فوجی نمائندہ کرےگا۔

انھوں نے کہا ’ تمام جماعتوں کا کہنا ہے کہ ان عدالتوں کو محدود وقت کے لیے استعمال کیا جائےگا اور انھیں سیاسی یا کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائےگا۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ان سپیشل کورٹس کی مدت دو سال ہوگی۔

ادھر سرکاری میڈیا نے اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ عدالتیں آئین میں ترمیم کے ذریعے قائم کی جائیں گی۔

پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت انسداد دہشت گردی کے لیے ’قومی ایکشن پلان‘ کے مسودے کو حتمی شکل دینے کے لیے بدھ کی صبح اکھٹی ہوئی تھیں تاہم فوجی عدالتیں قائم کرنے کے مسئلے پر سیاسی قیادت میں اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے اعلامیہ میں تاخیر ہوئی۔

خصوصی عدالتوں کے معاملے پرحکومتی یقین دہانی کے بعد متحدہ قومی موومنٹ بھی اطلاعات کے مطابق رضامند ہوگئی۔

اس سے قبل سرکاری میڈیا نے کہا تھا کہ حکمران پاکستان مسلم لیگ نواز، پاکستان تحریک انصاف، قومی وطن پارٹی، نیشنل پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، مسلم لیگ ق اور مسلم لیگ ضیا فوجی عدالتیں قائم کرنے کے نکتے پر متفق ہیں۔

تاہم سرکاری اور نجی میڈیا پر یہ خبریں بھی نشر ہوئی کہ اپوزیشن جماعت پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی نے فوجی عدالتوں سے متعلق قانونی مسودہ دیکھنے کا مطالبہ بھی کیا۔

بدھ کو اجلاس کے آغاز میں خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم پاکستان نے کہا تھا کہ وقت آ گیا ہے کہ کسی اور سانحے کا انتظار کیے بغیر اکٹھے ہو کر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سخت فیصلے کیے جائیں۔

یاد رہے کہ پشاور سانحے میں 133 بچوں سمیت 149 افراد کی ہلاکت کے بعد پاکستان کے وزیراعظم نے کل جماعتی کانفرنس بلائی تھی اور اعلان کیا تھا کہ اس کے نتیجے میں بننے والی پارلیمانی کمیٹی سات روز میں قومی ایکشن پلان مرتب کرے گی۔

کمیٹی نے سات روز کے اختتام پر اپنی سفارشات وزیرداخلہ کے حوالے کیں جس کے بعد بدھ کی صبح گیارہ بجے کل جماعتی کانفرنس کا آغاز ہوا۔

اس کانفرنس میں وزیراعظم، آرمی چیف کے علاوہ وفاقی وزرا سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان اور اہم رہنما بھی شریک ہوئے۔