2013 میں مذاکرات نہیں فوجی آپریشن ہونا چاہیے تھا: خواجہ آصف

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ 2013 میں جب چار ماہ تک طالبان کے ساتھ مذاکرات کیے گئے تھے اس وقت فوجی آپریشن کرنا چاہیے تھا۔
یہ بات انھوں نے بی بی سی ورلڈ سے ایک انٹرویو میں کہی۔
انھوں نے کہا ’لیکن ہم پر سیاسی دباؤ بہت تھا اور ہم نے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا۔ اور ہم کو معلوم تھا کہ یہ مذاکرات کامیاب نہیں ہوں گے لیکن پھر بھی ہم نے حجت تمام کی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات میں ناکامی کے بعد جون میں شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کا آغاز کیا گیا۔
’ہم نے تجربے سے سیکھا ہے کہ شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات نہیں ہو سکتے، اس کا صرف فوجی حل ہی ہو سکتا ہے، ہمیں پہلے ان کا خاتمہ کرنا ہو گا۔ پاکستان کی عوام ان لوگوں کا مکمل صفایا چاہتی ہے اور یہی کرنا چاہیے۔‘
خواجہ آصف نے کہا کہ پہلی بار تمام سیاسی جماعتیں ایک ہی پیج پر ہیں اور یہ بہت ہی ’نایاب سیاسی اتفاق‘ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ طالبان کے خلاف کارروائی میں پاکستان کو افغان حکومت کی حمایت ہونی ضروری ہے۔
اس سے قبل نجی ٹی وی چینل ڈان نیوز کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں وزیر دفاع نے کہا کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے دورہ افغانستان کے نتائج جلد سامنے آئیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسلام آباد میں واقع لال مسجد کے سابق مہتمم مولانا عبدالعزیز کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر خواجہ آصف نے کہا کہ ’شدت پسندوں کی جو بھی حمایت کرتے ہیں وہ پاکستانی نہیں ہیں۔‘
یاد رہے کہ مولانا عبدالعزیز نے پشاور کے آرمی پبلک سکول پر طالبان کے حملے کی مذمت کرنے سے انکار کیا تھا۔
وفاقی وزیر دفاع نے کہا ’ایسے عناصر ہمارے بچوں کے قاتلوں کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں وہ پاکستانی نہیں ہو سکتے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ان لوگوں کے مددگار ہیں، چاہے یہ زبان سے چاہے اپنے ایکشن سے یا کسی بھی طریقے سے ان کی مدد کر رہے ہیں تو وہ دہشت گردوں کے ساتھی ہیں ہمارے ساتھی نہیں ہیں۔‘
یاد رہے کہ پاکستان کے وزیراعظم نے دہشت گردی کے مقدمات میں سزائے موت پر عملدرآمد پر عائد پابندی کو ختم کر دیا ہے جبکہ آرمی چیف نے جمعرات کی شب چھ اہم دہشت گردوں کے ’ڈیتھ وارنٹ‘ پر دستخط کیے تھے۔
دوسری جانب پاکستانی برّی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف جمعہ کو خیبر ایجنسی روانہ ہو گئے جہاں وہ خیبر ایجنسی میں جاری زمینی آپریشن کا جائزہ لیں گے۔
پشاور کے آرمی سکول پر طالبان کے حملے کے بعد خیبر ایجنسی میں پہلے سے جاری آپریشن میں تیزی آئی ہے اور کارروائیوں میں درجنوں شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
اس سے قبل آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد مستقبل کے لائحہ عمل پر غور کرنے کے لیے جی ایچ کیو میں وزیراعظم کی صدارت میں اجلاس ہوا۔
سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق اجلاس میں آپریشن ضرب عضب اور پشاور میں سکول پر شدت پسندوں کے حالیہ حملے کے بعد مستقبل کے لائحہ عمل پر بھی توجہ مرکوز کی گئی۔
اس اجلاس میں برّی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اور دوسرے اعلیٰ فوجی حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اور وزیرخزانہ اسحق ڈار بھی اجلاس میں موجود تھے۔
آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر نے اجلاس کو سلامتی کی صورتحال کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔
یہ اجلاس ایسے وقت ہوا ہے جب ایک روز قبل ہی جنرل راحیل شریف نے کورٹ مارشل میں سزائے موت پانے والے چھ شدت پسندوں کی سزا پر عمل درآمد کی منظوری دی تھی۔
دوسری جانب وزارت داخلہ کے ذرائع نے 17 ایسے قیدیوں کے نام ظاہر کیے ہیں جنھیں وزیرِ اعظم کی جانب سے سزائے موت پر عملدرآمد کی اجازت دیے جانے کے بعد پھانسی دی جائےگی۔







