’بلوچستان میں مذہبی شدت پسندی کو فروغ‘

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے انسانی حقوق کے کمیشن، وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز اور لاپتہ بلوچ کارکنوں کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں ایک جانب مذہبی شدت پسندی کو فروغ دیا جا رہا ہے تو دوسری جانب فورسز کی کارروائیوں سے ایسے حالات پیدا ہوگئے ہیں جس سے لوگ نقل مکانی کرکے دربدر ہو رہے ہیں۔
بلوچستان میں لاپتہ افراد اور تشدد شدہ لاشوں کی برآمدگی اور بدلتے حالات کے بارے میں میڈیا اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو آگاہ کرنے کے لیے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی جانب سے پریس کلب میں سیمینار منعقد کیا گیا۔
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین عبدالقدیر بلوچ کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے واقعات عام ہیں جس کی روک تھام کے لیے ریاست کوئی اقدام نہیں کر رہی ہے جبکہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ میڈیا بھی خاموش ہے۔
عبدالقدیر بلوچ کے مطابق ریاستی اداروں کی کارروائیوں سے لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں جن میں شہ رگ، شاہپک، ہیرو، کولوا، کاہان، اور تجاگان کے رہائشی شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ شاہپک سے نقل مکانی سے کئی سکول بھی بند ہوگئے ہیں جبکہ لوگ گھر بار اور مال مویشی چھوڑ کر زندگی بچانے کے لیے کیمپوں میں دربدری کی زندگی گذار رہے ہیں۔
وائس فار بلوچ وائس مسنگ پرسنز کے مطابق ’اب تک 21,000 ہزار بلوچ نوجوان لاپتہ ہیں جبکہ 6,000 کی مسخ تشدد شدہ لاشیں مل چکی ہیں‘ تاہم ان دعوؤں کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی جاتی۔
سیمینار میں کئی لاپتہ اور ہلاک ہونے والے سیاسی کارکنوں کے اہل خانہ بھی شریک تھے۔
لاپتہ ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی بیٹی سمی بلوچ کا کہنا تھا کہ انھیں معلوم نہیں ہے کہ والد کی تلاش میں وہ کب لاپتہ ہوجائیں گی کیونکہ ڈیرہ بگٹی سمیت دیگر علاقوں سے اب خواتین بھی لاپتہ ہو رہی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سمی بلوچ کے مطابق ’بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتِ حال یہ ہے کہ بلوچ دکانداروں، بیماروں اور بسوں میں سوار مسافروں کو بہانے سے کئی کئی گھنٹے روک کر نفسیاتی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ خواتین کی مرد اہلکاروں سے چیکنگ کرا کے اسلامی اور بلوچ روایت کی تذلیل کی جاتی ہے جس کو بیان کرتے آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔‘
انسانی حقوق کمیشن کے وائس چیئرمین اسد بٹ کا کہنا تھا کہ انھوں نے خود کوئٹہ میں داعش کی وال چاکنگ دیکھی ہے اگر کوئی اپنے حقوق کے لیے دیوار پر ایک نعرہ بھی لکھے تو اس کو اٹھا لیا جاتا ہے تاہم ان شدت پسندوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔
اسد بٹ انسانی حقوق کمیشن کے بلوچستان مشن کا بھی حصہ رہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دیا گیا ہے اور اس سے بلوچ عوام پر ظلم و ستم ڈھائے جا رہے ہیں۔
’ایک 14 سالہ بچہ کو اسلام کا دشمن قرار دیے کر ہلاک کردیا گیا بعد میں اس کی لاش گاڑی کے ساتھ گھسیٹی گئی تاکہ دوسرے لوگ سبق سیکھیں۔‘
انسانی حقوق کے کارکنوں نے جب اس بچے کی تدفین کی کوشش کی تو رشتے داروں نہ یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ وہ خاندان کے کسی اور فرد کی ہلاکت نہیں چاہتے۔
بلوچستان میں رواں ہفتے ہلاک ہونے والے تعلیمی ماہر زاہد بلوچ کے چچا مولانا عبدالسلام کا کہنا تھا کہ زاہد کا قصور یہ تھا کہ وہ علم کا داعی، سچا مسلمان اور سچا بلوچ تھا۔
دوسری جانب سندھ میں قوم پرست کارکنوں کی گمشدگی اور تشدد شدہ لاشوں کی برآمدگی کے خلاف جئے سندھ متحدہ محاذ، جئے سندھ محاذ کی جانب سے احتجاجی مظاہرے اور سندھ ترقی پسند پارٹی کی جانب سے بھوک ہڑتال کی گئی۔







