’حکومت کو تحریک انصاف سے مذاکرات پر اعتراض نہیں‘

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف کا کہنا ہے کہ حکومت تحریک انصاف سے مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن ایک جانب بات چیت اور دوسری جانب ملک بند کرنے کی دھمکیاں نہیں دی جانی چاہییں۔
ادھر تحریکِ انصاف کے نائب چیئرمین شاہ محمود قریشی نے چھ دسمبر کو مذاکرات کی بحالی کی صورت میں عمران خان سے احتجاج کے نئے سلسلے کی کال واپس لینے کی درخواست کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
افغانستان کے حوالے سے لندن کانفرنس میں شرکت کے لیے برطانیہ پہنچنے پر میاں نواز شریف نے عمران خان کی جانب سے مذاکرات کے دوبارہ آغاز کی پیشکش کے بارے میں سوال پر کہا کہ ’ہمیں بات چیت پر کوئی تامل نہیں ہے، ہم بات چیت اور جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں لیکن بات چیت بامقصد ہونی چاہیے۔‘
وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ اگر تحریک انصاف خلوص کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتی ہے تو حکومت کو اعتراض نہیں ہے۔
تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ تحریکِ انصاف کا ایک ساتھ دو متضاد باتیں نہیں کرنی چاہییں کہ وہ ایک طرف تو مذاکرات کرے اور دوسری جانب ملک بند کروانے کے اعلانات کیے جائیں۔
نواز شریف نے کہا کہ عمران خان کو انتخابات میں دھاندلی کے حوالے سے اس وقت بتانا چاہیے تھا جب وہ ان کی مزاج پرسی کے لیےگئے تھے۔
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے نام پیغام میں میاں نواز شریف نے کہا کہ جو نیا پاکستان بنانے کی بات کرتے ہیں وہ پہلے خیبرپختونخوا میں نیا پاکستان بنا کر دکھائیں۔
’پاکستان کے عوام نے انھیں اس لیے ووٹ نہیں دیا کہ یہ دھرنوں کی سیاست کریں پاکستان کے عوام نے انہیں خیبرپختونخوا میں ووٹ دیا تھا کہ وہاں جس نئے پاکستان کی بات کرتے ہیں وہ بنا کر دکھائیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیر اعظم نے خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت پر تنقید کی اور کہا کہ نہ وہاں حکومت کے پاس کوئی ایجنڈا ہے اور نہ ہی ان کے پاس ٹیم ہے۔
وزیر اعظم نے بتایا کہ عمران خان اب یہ بھی مان گئے ہیں کہ ’انھوں نے کے پی کے ہیلی کاپٹر استعمال کیے اور یہ بھی مان گئے ہیں کہ ڈیزل بھی استعمال ہوا ہے۔‘
ادھر وزیرِ اعظم کے اس بیان کے بعد نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے تحریکِ انصاف کے نائب چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ حکومت اگر چھ سمبر کو مذاکرات کا آغاز کر دے تو وہ عمران خان سے آٹھ دسمبر کو احتجاج کی کال واپس لینے کے لیے درخواست کر سکتے ہیں ۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا مقصد ملک کو اور معیشت کو نقصان پہنچانا نہیں۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیرِ اعظم کے استعفے کے مطالبے سے پیچھے ہٹ کر عمران خان نے بہت بڑی رعایت دی ہے اگر حکومت واقعتاً چاہتی ہے کہ احتجاج نہ ہو تو حکومت چھ تاریخ کو مذاکرات کرے۔
’ڈار صاحب سے کہتا ہوں آئیں چھ کو بیٹھ جائیں ، وزیراعظم بھی تشریف لے آئیں گے، بہت سی چیزیں طے ہو چکی ہیں، یہ ایک بہت بڑا مثبت اشارہ ہوگا اور اس کو سامنے رکھتے ہوئے ہماری جماعت عمران خان سے درخواست کر سکتی ہے کہ اب تعطل ٹوٹا ہے، برف پگھلی ہے، پارٹی اس پر غور کر سکتی ہے۔‘
اس موقع پر پروگرام میں شامل حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ اور وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت چھ یا سات دسمبر کو بات چیت کے لیے بیٹھنے کو تیار ہے۔
’21 جماعتیں ہمارے ساتھ کھڑی تھیں۔ انھیں بھی اعتماد میں لینا پڑے گا اور جو بھی احتجاج کی کال دی گئی ہے اسے ملتوی ہونا چاہیے۔‘







