’بچیوں کووالد یا سگے بھائی کے حوالے کیا جائے گا‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, حسن کاظمی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی پولیس کا کہنا ہے کہ منگل کو بازیاب ہونے والی 26 نوعمر لڑکیوں کو باجوڑ کے پولیٹیکل ایجنٹ کے ذریعے اہل خانہ تک پہنچایا جائے گا۔
ایس ایس پی سینٹرل نعمان صدیقی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ اس وقت تمام بچیاں دارالبنات میں محفوظ ہیں اور فیصلہ کیا گیا ہے کہ انہیں ان کے والد یا پھرسگے بھائی کے سپرد کیا جائے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ ’باجوڑ کے پولیٹیکل ایجنٹ فیاض شیرپاؤ کراچی آئیں گے اور ان بچیوں کو بحفاظت باجوڑ لے جایا جائے گا جہاں انھیں والد یا سگے بھائی کے حوالے کیا جائے گا۔‘
انھوں نے بتایا کہ اگر ان میں سے کسی بچی کا ولد یا سگا بھائی موجود نہ ہوا تو پھر وہاں کا مقامی جرگہ انھیں قریبی رشتہ دار کے حوالے کرنے کا فیصلہ کرے گا۔
یاد رہے کہ منگل کے روز کراچی میں پولیس نے لیاقت آباد کے علاقے میں ایک مکان پر چھاپہ مار کر 26 نوعمر لڑکیوں کو بازیاب کیا تھا۔
ان بچیوں کی عمریں آٹھ سے دس سال کے درمیان ہیں اور وہ اردو نہیں بول سکتیں۔
پولیس نے چھاپے میں دو خواتین اور ایک مرد کو بھی حراست میں لیا جن سے تفتیش جاری ہے۔
ایس ایس پی نعمان صدیقی کے مطابق ان بچیوں کوگذشتہ چند برس کے دوران قرآن حفظ کروانے کے لیے باجوڑ سے کراچی لایا گیا تھا اور ان کی معلمہ اپنے ایک قرض دار کے قرض واپس نہ کرنے پر انھیں اس کے پاس چھوڑ گئی تاکہ وہ ان کے کھانے پینے کا خرچ اٹھائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما رؤف صدیقی کے مطابق حراست میں لی گئی عورت کے بقول اس نے ایک مدرسے کی استانی سے چار لاکھ روپے قرض لیا تھا اور واپس نہ کرسکنے کے نتیجے میں اس استانی نے یہ بچیاں اس عورت کے مکان پر بھجوا دیں کہ ان کی کفالت کرو۔
نجی ٹی وی پر چلنے والی فوٹیج کے مطابق ان بچیوں سے کئی سوال پوچھے گئے لیکن اردو نہ آنے کے باعث انھوں نے جواب نہیں دیا۔
ایک شخص نے رؤف صدیقی کے کہنے پر ایک بچی سے پشتو میں پوچھا کہ وہ کب کراچی آئی تو اس بچی نے کہا کہ تین سال قبل کراچی آئی تھی۔







