پاکستان کے ساتھ سرحدی انتظام میں تعاون چاہتے ہیں: اشرف غنی

،تصویر کا ذریعہISPR
پاکستان کے دو روزہ دورے پر آئے ہوئے افغان صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ کابل اسلام آباد کے ساتھ سکیورٹی اور دفاعی تعلقات کو فروغ دینا چاہتا ہے اور سرحدی انتظام میں تعاون چاہتا ہے۔
انھوں نے یہ بات پاکستان بّری فوج کے ہیڈکوارٹر کے دورے کے موقعے پر کہی۔
افغان صدر نے جمعے کو جی ایچ کیو کا دورہ کیا جہاں انھوں نے بّری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق افغانستان کے وفد کو پاک افغان سرحد پر سکیورٹی کی صورتحال کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
پاک فوج کے دستے نے افغان صدر کو گارڈ آف آنر پیش کیا اور افغان صدر نے آرمی چیف کے ہمراہ گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا۔
افغان صدر اشرف غنی کا دورہ پاکستان کی اہمیت جی ایچ کیو میں دیے گئے استقبالیے سے واضح ہوتی ہے۔ اشرف غنی کو نہ صرف جی ایچ کیو کے دورے کی دعوت دی گئی بلکہ انھیں گارڈ آف آنر دیا گیا اور انھوں نے یادگارِ شہدا پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔
بعض دفاعی تجزیہ کار اشرف غنی کے دورہ جی ایچ کیو اور وہاں اس خیر مقدم کو غیر معمولی اہمیت دے رہے ہیں کیونکہ سابق افغان صدر اپنے دس سالہ دور اقتدار میں راولپنڈی میں اس نوعیت کے خیر مقدم سے محروم رہے۔
بری فوج کے سربراہ راحیل شریف اور افغان صدر نے سکیورٹی سے متعلقہ امور اور دفاعی تعاون کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جی ایچ کیو میں پاک افغان سرحد پر سکیورٹی کی صورتحال کے بارے میں تفصیلی بریفنگ میں وزیر اعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز، سیکریٹری خارجہ اعتزاز احمد چوہدری، سیکریٹری دفاع ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل اسلم خٹک اور آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر بھی موجود تھے۔
افغان صدر کے ہمراہ وزیر دفاع جنرل بسم اﷲ محمدی، افغان چیف آف جنرل سٹاف جنرل شیر محمد کریمی اور سکیورٹی کے سینیئر حکام بھی تھے۔
اس سے قبل افغان صدر کی وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار اور وزیراعظم کے مشیر سرتاج عزیزکے ساتھ ملاقاتیں ہوئیں۔
سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ان ملاقاتوں میں دونوں ملکوں کے فائدے کے لیے اقتصادی اور تجارتی تعلقات میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔
سرتاج عزیز نے دو روزہ دورے پر آئے ہوئے افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کے کے بعد کہا کہ پاکستان ہمسایہ برادر ملک ہونے کے باعث افغانستان کے ساتھ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ انھوں نے افغانستان کو مختلف شعبوں میں ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی۔
امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق افغان صدارتی محل کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر اشرف غنی کے دورے پر دو طرفہ تجارت کو دو گنا کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔ تاہم اس بیان میں سکیورٹی امور کے حوالے سے کچھ نہیں کہا گیا۔
اے پی کے مطابق اشرف غنی پاکستان کے ساتھ تعلقات کو از سرِ نو تشکیل دینا چاہتے ہیں جو کہ سابق افغان صدر حامد کرزئی نے نہیں کیا۔ حامد کرزئی اکثر پاکستان پر الزام عائد کرتے تھے کہ پاکستان طالبان کو روکنے کے لیے موثر اقدامات نہیں کر رہا۔







