خیبر میں تازہ بمباری: ’اہم کمانڈروں سمیت 19 ہلاک‘

،تصویر کا ذریعہPAF
- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر ہونے والے تازہ فضائی حملوں میں اہم کمانڈروں سمیت کم سے کم 19 شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔
پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ادارے آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری کردہ ایک مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ بدھ کو سکیورٹی فورسز نے خیبر ایجنسی کے علاقے سنڈپال میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی۔
بیان کے مطابق ان حملوں میں کم سے کم 19 شدت پسند ہلاک ہوگئے جن میں بعض اہم کمانڈر بھی شامل ہیں۔ تاہم بیان میں کمانڈروں کے نام نہیں بتائے گئے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس کارروائی میں عسکریت پسندوں کے پانچ ٹھکانوں اور بارود کے ایک ذخیرے کو بھی تباہ کر دیا گیا ہے۔
خیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے عسکری تنظیموں کے خلاف جاری آپریشن خیبر ون میں گذشتہ کئی دنوں سے تیزی دیکھی جاری ہے۔ منگل کو بھی سکیورٹی فورسز نے خیبر ایجنسی میں ہی ایک کارروائی کے دوران غیر ملکیوں سمیت کئی شدت پسندوں کے مارے جانے کا دعویٰ کیا تھا۔
فوجی ذرائع کی جانب سے موصول ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ آپریشن خیبر ون کے دوران اب تک 135 شدت پسند مختلف کارروائیوں کے دوران مارے جا چکے ہیں۔
تاہم علاقے میں صحافیوں کے داخلے پر پابندی اور آپریشن کے باعث ان ہلاکتوں کی تصدیق آزاد ذرائع سے نہیں ہو سکی۔
خیال رہے کہ چند ہفتے قبل خیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے خیبر ون کے نام سے بڑے آپریشن کا آغاز کیا گیا تھا۔ ابتدائی طورپر یہ کارروائیاں باڑہ سب ڈویژن کے علاقے میں کی گئیں جہاں اطلاعات کے مطابق بیشتر علاقوں پر عسکری تنظیموں کو کنٹرول حاصل تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ خیبر ایجنسی میں کارروائی ایسے وقت شروع کی گئی ہے جب فوج کی جانب سے شمالی وزیرستان میں آپریشن کا سلسلہ جاری ہے۔
فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ نے چند روز پہلے پشاور میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ خیبر ایجنسی میں کارروائی اس لیے شروع کی گئی ہے کہ وزیرستان سے بھاگ جانے والے عسکریت پسند یہاں پناہ لے رہے تھے۔
انھوں نے کہا تھا کہ دونوں ایجنسیوں میں اس وقت تک کارروائیاں جاری رہی گی جب تک تمام علاقے مکمل طور پر شدت پسندوں سے پاک نہیں ہو جاتے۔
دریں اثنا پاکستان کے فوج کے جنرل ہیڈکوارٹر راولپنڈی میں بدھ کو پاکستانی فوج کے سپہ سالار جنرل راحیل شریف کی صدرات میں 176ویں کور کمانڈر کانفرنس منعقد ہوا۔
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق یہ معمول کی ماہانہ میٹنگ تھی جس میں ملک کی سکیورٹی صورتِ حال اور بالخصوص شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضربِ عضب اور خیبر ایجنسی میں ہونے والی فوجی آپریشن پر بریفنگ دی گئی۔







