کشمیری علیحدگی پسند نہیں: پاکستان

،تصویر کا ذریعہReuters
پاکستان کا کہنا ہے کہ کشمیری علیحدگی پسند نہیں بلکہ اپنے حقِ خودارادیت کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔
ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ تسنیم اسلم نے بھارتی وزیردفاع کے بیان کے حوالے سے کیے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ ’کشمیری علیحدگی پسند نہیں ہیں وہ ایک زیرقبضہ علاقے کے لوگ ہیں جب اپنے حقِ خود ارادیت کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ کشمیریوں کا یہ حق اقوام متحدہ کی قراردادوں میں بھی تسلیم کیا گیا ہے۔
دفتر خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس تنازعے میں فریق ہے، تاہم انھوں نے بھارتی وزیرِ دفاع کے اس بیان کو کہ پاکستان یا تو حریت رہنماؤں کے ساتھ بات کرے یا پھر بھارت کے ساتھ، کو ناقابل قبول دلیل قرار دیا۔
دفتر خارجہ کی ترجمان نے یہ بھی کہا کہ پاکستان اور بھارت کو مذاکرت کرنا ہوں گے جو خطے میں امن کے قیام، معاشی ترقی اور عوام کی بہبود کے لیےضروری ہیں۔ مگر ساتھ ہی انھوں نےیہ بھی واضح کیا کہ پاکستان کسی شرط کو تسیلم نہیں کرتا۔
یاد رہے کہ بدھ کو بھارتی وزیردفاع نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستان کو سرخ لکیر کھینچنا ہو گی کہ آیا وہ بھارتی حکومت سے بات چیت کرنا چاہتا ہے یا پھر ان سے جو بھارت کو توڑنا چاہتے ہیں۔
بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق وزیر دفاع ارجن جیٹلی نے ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہے اور حالات کو معمول کے مطابق لانا چاہتا ہے لیکن کچھ سرخ لکیریں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جب تک پاکستان ان دونوں میں سے کسی ایک کو متنخب نہیں کرتا پاکستان کے ساتھ مذاکرات ممکن نہیں ہوں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واہگہ بارڈر پر ہونے والے دہشت گردی کے واقعے پر بات کرتے ہوئے تسنیم اسلم نے بتایا کہ پاکستانی حکام اس واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور وہی فیصلہ کریں گے کہ انھیں اس ضمن میں بیرونی مدد کی ضرورت ہے یا نہیں۔
بنگلہ دیش میں جماعتِ اسلامی کے ایک اور رہنما کو پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے اس پر پاکستان کا کیا موقف ہے؟ اس سوال کے جواب میں دفتر خارجہ کی ترجمان نے اپنا سابقہ موقف دہرایا کہ پاکستان دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات پر تبصرہ نہیں کرتا۔
تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان بنگلہ دیش میں جاری ان مقدمات پر دیگر ممالک اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں کے ردِ عمل کا جائزہ لے رہا ہے۔
دفتر خارجہ کی ترجمان نے لیبیا میں موجود پاکستانیوں کی وطن واپسی کے بارے میں بتایا کہ خصوصی پروازوں کے ذریعے تین ہزار 300 پاکستانی وطن واپس لوٹ چکے ہیں اور ایک روز قبل یہ آپریشن مکمل ہو گیا ہے۔
دفتر خارجہ کی جانب سے ایک بار پھر پینٹاگون کی اس رپورٹ پر تنقید کی گئی ہے جس میں پاکستان ن پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین بھارت اور افغانستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔







