’لڑائی زیادہ تھی اس لیے نکلنا پڑا‘

- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
کمرے کے دروازے میں داخل ہوتے ہی جب آپ اجتماعی سلام کرتے ہیں تو اس کی توقع کہیں بھی نہیں ہوتی کہ اس کمرے میں موجود سب کے سب آپ سے ہاتھ ملانے آ جائیں گے۔
اسلام آباد میں بیت المال کے زیر اہتمام سویٹ ہوم کے کسی بھی کمرے میں چلے جائیں تو دس بارہ بچے آپ کی جانب ہاتھ ملانے کے لیے ایسے لپکیں گے کہ آپ کو حیران ہونے کا وقت بھی نہیں ملے گا۔
سویٹ ہوم میں گذشتہ ماہ شمالی وزیرستان براستہ بنوں پہنچنے والے دس سالہ حسن جان سے ملاقات ہوئی۔ کمزور مگر سرخ و سفید حسن باقی بچوں سے قدرے زیادہ پراعتماد دکھائی دیتا تھا۔ قبائلی علاقوں میں شدت پسندی کی جاری لہر کی عمر اس کی عمر سے زیادہ ہے۔ لیکن اب وہ بھی اس کے براہ راست متاثرین میں سے ایک بن گیا ہے۔
اس کے والد پہلے ہی فوت ہوچکے ہیں جبکہ والدہ بنوں میں متاثرین کے ایک کیمپ میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ انھوں نے خرچہ برداشت نہ کر پانے کی وجہ سے بیٹے حسن جان کو اسلام آباد کے سویٹ ہوم بھیج دیا۔ حسن جان کے علاوہ شمالی وزیرستان کے پانچ سے دس سال عمر کے 35 مزید لاوارث بچے ایک ماہ قبل یہاں لائے گئے ہیں۔
ان بچوں نے ان مشکل حالات میں بھی امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ جہاں بھی جب بھی وقت ملے کھیلنا شروع کر دیتے ہیں۔
صدر مقام میران شاہ سے تعلق رکھنے والے حسن جان نے ٹوٹی پھوٹی اردو میں بتایا کہ وہ بڑے مشکل حالات میں اپنے چچا کے ہمراہ وزیرستان سے ضرب عضب کے آغاز سے چند روز پہلے نکلنے میں کامیاب رہے تھے: ’پانی کا ایک قطرہ نہیں مل رہا تھا، بھوکے میلوں سفر کیا۔ لڑائی زیادہ تھی اس لیے نکلنا پڑا۔‘
جب یہ بچے اس سویٹ ہوم لائے گئے تو صدمے کا شکار ہوگئے۔ عمارت کے اوپر سے کوئی طیارہ گزر جاتا تو یہ ڈر جاتے تھے، خوف کے مارے اپنے کمروں میں چھپ جاتے تھے۔ کہتے تھے میزائل ماریں گے۔
حسن جان طیاروں سے خوف کے باوجود پائلٹ بننا چاہتے ہیں: ’ڈرون کا پائلٹ تو نہیں وہ تو بچوں کو مارتا ہے۔ میں اس سے ڈرتا ہوں لیکن میں پی آئی اے کا بنوں گا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سویٹ ہوم کے انچارج وسیم نواز نے بتایا کہ حکومت پاکستان اور مخیر حضرات کی امداد سے ان کا مناسب خیال رکھا جا رہا ہے۔ ’جتنا ممکن ہو گھر جیسا ماحول دینے کی کوشش ہی کی جا سکتی ہے، دیا نہیں جاسکتا۔‘
ان بچوں کو کاغذ اور رنگ دیے تو کسی نے اپنے گاؤں کی مسجد اور کسی نے دلکش مکان کی تصویر کشی کی۔ ان ننھے منے بچوں کے ذہنوں میں اب بھی اپنے علاقے کی نشانیاں حاوی ہیں۔







