شمالی وزیرستان میں بحالی کے لیےدنیا سے امداد کی ضرورت

- مصنف, آصف فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
قبائلی علاقوں کے لیے وفاقی وزیر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچ نے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان سے جنگ کے باعث بے گھر ہونے والے افراد کی بحالی کے لیے حکومت نے بین الاقوامی اداروں اور ملکوں سے مالی مدد لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں قبائلی علاقوں کے ذمہ دار وزیر نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں جنگ سے تباہ ہونے والے بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کی تعمیر نو کے لیے ڈیڑھ سو ارب روپوں کی ضرورت ہے جو حکومت کے پاس نہیں ہیں۔
’اس لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ شمالی وزیرستان میں تعمیرِ نو کے لیے غیر ملکی (مالیاتی) ایجنسیوں سے مدد کی اپیل کریں گے۔ اس بارے میں امداد دینے والے مختلف اداروں کے ساتھ ابتدائی بات چیت کر لی گئی ہے اور بہت جلد ہم اس سلسلے میں بین الاقوامی اپیل بھی جاری کر دیں گے۔‘
اس سوال پر کہ جنگ شروع ہونے کے بعد بے گھر افراد کی مدد کے لیے حکومت نے غیر ملکی مدد لینے سے تب انکار کیا تھا، تو اب وہ کیوں غیر ملکی مدد کے طالب ہیں، وفاقی وزیر نے کہا کہ اس لڑائی کے دوران شمالی وزیرستان میں مکانات، کاروبار اور سہولیات کا بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔
’ آپ سوچ نہیں سکتے کہ کتنی بڑی تباہی اس علاقے میں ہوئی ہے۔ مکانات، دکانیں، سکول، ہسپتال، سڑکیں، پانی فراہم کرنے کی سکیمیں الغرض ہر چیز نئے سرے سے بنانی پڑے گی اور حکومت کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں۔‘
شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی کی مدتِ تکمیل کے بارے میں وفاقی وزیر نے کہا کہ ان کے پاس فوجی منصوبہ بندی کی تفصیل تو نہیں ہے، لیکن ان کی خواہش ہے کہ یہ لڑائی اب زیادہ دیر نہ چلے۔
’میری خواہش ہے کہ اگلے ایک، دو یا زیادہ سے زیادہ تین ماہ میں آپریشن ضرب عضب ختم ہو جائے کیونکہ اگر یہ آپریشن اس سے زیادہ دیر جاری رہا تو اس کا الُٹا اثر ہوگا اور سیاسی طور پر یہ حکومت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو گا۔‘
جنرل قادر بلوچ نے کہا کہ اس آپریشن کے ختم ہونے کے بعد وہاں سے بے گھر ہونے والے دس لاکھ افراد کی مرحلہ وار بحالی شروع کر دی جائے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وفاقی وزیر کے مطابق پہلے مرحلے میں بے گھر افراد کو اپنے گھروں کو لوٹنے کے لیے سفری اخراجات اور کچھ عرصے کا راشن کا بندوبست کیا جائے گا، دوسرے مرحلے میں ان کے گھر رہنے کے قابل بنائے جائیں گے اور تیسرے مرحلے میں شمالی وزیرستان کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو ہو گی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
’دہشت گردی اس علاقے میں کاروبار کی شکل اختیار کر گئی تھی۔ اب جبکہ وہ سب ختم ہو چکا ہے شمالی وزیرستان، اور دیگر قبائلی علاقوں کے لوگوں کو روزگار کے متبادل مواقع فراہم کرنے ہوں گے۔ اور ایسا کرنا بین الاقوامی برادری کی بھی ذمہ داری ہے۔‘
جنرل قادر بلوچ نے کہا کہ شمالی وزیرستان اور دیگر قبائلی علاقوں میں ترقیاتی کاموں میں حصہ لینا خود بین الاقوامی برادری کے مفاد میں ہے۔
’یہ لوگ جو یہاں بیٹھ کر دہشت گردی کر رہے تھے اس کا اصل نشانہ پاکستان نہیں تھا بلکہ بعض غیر ملکی طاقتیں تھیں۔ افغانستان میں نیٹو ممالک ان دہشت گردوں کا ہدف ہیں۔ اگر یہ دہشت گردی کی فضا یہاں دوبارہ بنی تو انہی ملکوں کا نقصان سب سے زیادہ ہو گا۔‘
جنرل قادر نے کہا کہ اسی لیے حکومت ان ممالک کو پورا موقع دینا چاہتی ہے کہ وہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ترقیاتی کاموں میں بھرپور حصہ لیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت ہرگز یہ نہیں چاہتی کہ قبائلی علاقے دوبارہ دہشت گردوں کے پنپنے کی جگہیں یا نرسریز بن جائیں اس لیے وہاں بڑے پیمانے پر معاشی سرگرمیاں شروع کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔
’شمالی وزیرستان اور دیگر قبائلی علاقے معدنیات کی دولت سے مالا مال ہیں۔ ہم ان معدنیات کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر سرگرمیاں شروع کرنا چاہتے ہیں جس کے لیے غیر ملکی امداد کی بہت ضرورت ہو گی۔‘







