صوبے بننے سے سندھ سندھ ہی رہے گا تقسیم نہیں ہوگا: الطاف

،تصویر کا ذریعہReuters
متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین نے کہا ہے کہ سندھ میں پانچ ڈویژنوں سے سندھ تقسیم نہیں ہوا، اگر پانچ صوبے بھی بن جائیں تب بھی سندھ سندھ ہی رہے گا تقسیم نہیں ہوگا۔
کراچی میں منگل کی شام ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جولوگ نئے صوبوں اور نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی مخالفت کرتے ہیں وہ اگر نئے صوبے بننے نہیں دیتے تونہ دیں، سندھ کو دس سال کے لیے ایم کیوایم کے حوالے کردیں وہ سندھ کو دنیا کا ترقی یافتہ علاقہ بنا کر دکھا دیں گے۔
الطاف حسین نے عزیزآباد میں ایم کیوایم کے سندھی بولنے والے ذمہ داروں کے اجتماع سے فون پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر نئے صوبے اور انتظامی یونٹس قائم ہوتے ہیں تو وڈیروں اور جاگیرداروں کا تسلط کمزور ہوگا اور اسی لیے وہ اس کی شدید مخالفت کرتے ہیں۔
ایم کیو ایم کے سربراہ کا کہنا تھا کہ وڈیرے اور جاگیردار بلدیاتی نظام بھی نہیں آنے دیتے کیونکہ اگر بلدیاتی نظام آئے تو جاگیردار کمزور ہوں گے اور غریب سندھی نوجوان اپنی گلیوں کے کونسلر بنیں گے۔
الطاف حسین نے سوال کیا کہ ’گزشتہ سات آٹھ سالوں کے دوران سندھ کو مالیاتی ایوارڈ این ایف سی کی مد میں وفاق سے جو 3200 ارب روپے ملے ہیں وہ کہاں گئے؟ وہ پیسے سندھ میں کہاں خرچ ہوئے؟ اس سے سندھ میں کتنے سکول، کالج، ہسپتال اورصحت کے مراکز بنے؟ کتنی سڑکیں بنیں؟‘
انہوں نے صحرائے تھر میں قحط سالی کا بارے میں بات کرتے ہوئے کہا تھر میں بچے بھوک اورعلاج معالجہ نہ ملنے کی وجہ سے مر رہے ہیں لیکن حکمراں وڈیروں کو اس کا کوئی احساس نہیں۔
الطاف حسین کا مزید کہنا تھا کہ وڈیرے، جاگیردار اور نام نہاد قوم پرست سادہ لوح اورغریب سندھیوں کو ورغلاتے ہوئے کہتے ہیں کہ سندھیوں کاحق مہاجروں نے مارا ہے، مہاجروں نے اندرون سندھ ترقی نہیں ہونے دی۔ ’کیا لاڑکانہ، نوڈیرو، رتوڈیرو اوراندرون سندھ کے دیگر شہروں سے ایم کیوایم کامیاب ہوتی رہی ہے یا پیپلزپارٹی؟‘



