کراچی: امام بارگاہ پر کریکر سے حملہ، بچی ہلاک

کراچی میں ماہ محرم میں سکیورٹی کے اضافی انتظامات کیے گئے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنکراچی میں ماہ محرم میں سکیورٹی کے اضافی انتظامات کیے گئے ہیں

پاکستان کے شہر کراچی میں مجلس کے دوران ایک امام بارگاہ پر کریکر کے حملے میں ایک بچی ہلاک اور چھ افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

یہ حملہ کراچی کے علاقے عائشہ منزل میں واقع اسلامک ریسرچ سینٹر پر کیا گیا۔

ایڈیشنل آئی جی غلام قادر تھیبو نے تصدیق کی ہے کہ دھماکے میں ایک کم سن بچی ہلاک جبکہ آٹھ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بچی کی ہلاکت زیادہ خون بہہ جانے کے باعث ہوئی ہے۔

دوسری جانب دو کم سن بچیوں سمیت آٹھ خواتین کو عباسی شہید ہسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں ڈاکٹروں کے مطابق بچیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔

دوسری جانب مجلس وحدت مسلمین کے اعلامیے کے مطابق دھماکے میں نو ماہ کی بتول بنت احسن ہلاک جبکہ آٹھ خواتین زخمی ہوئی ہیں۔

تنظیم کے رہنما علامہ حسن ہاشمی کا کہنا ہے کہ شہر کے علاقے انچولی، واٹر پمپ، عائشہ منزل اور لیاقت آباد میں محرم کی آمد سے قبل ہی دہشت گردی کی کارروائیاں جاری تھیں لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کسی دہشت گرد کو گرفتار نہیں کیا گیا۔

انھوں نے حکومت کو متنبہ کیا کہ اگر محرم میں سکیورٹی کے انتظامات درست نہیں ہوئے تو شہر کے حالات کی تر سنگینی کی تمام ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔

ان کے مطابق منگل کی شب محرم الحرام کے حوالے سے مجلس کے اختتام پر قریب ہی سے گزرنے والے ایک پل سے عمارت پر کریکر پھینکا گیا۔

شیعہ تنظیم مجلس وحدت المسلمین کے ترجمان عاطف صفوی نے نامہ نگار ریاض سہیل کو بتایا کہ مجلس کے اختتام پر جب خواتین چھوٹے راستے سے باہر نکل رہی تھیں تو اس وقت کریکر سے حملہ کیا گیا۔

پولیس کے مطابق زخمی ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جنھیں عباسی شہید ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

دھماکے کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے امام بارگاہ کو گھیرے میں لے لیا۔

خیال رہے کہ کراچی سمیت ملک بھر میں عشرۂ محرم کے دوران دہشت گردی کے خطرے کی وجہ سے سکیورٹی کے اضافی انتظامات کیے گئے ہیں۔

کراچی پولیس نے گذشتہ دنوں ہی ایسے نو مبینہ شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا جو حکام کے مطابق محرم کی تقریبات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

کراچی میں اس پہلے بھی محرم کے دوران یوم عاشور کے مرکزی جلوس سمیت دیگر مجالس اور اس کے شرکا کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔