دھرنے کی بنا انقلاب رخصتی

دھرنے کے خاتمے کا اعلان سننے کے بعد شاہراہِ دستور سے پاکستان عوامی تحریک کے کارکنان کی واپسی جاری ہے
،تصویر کا کیپشندھرنے کے خاتمے کا اعلان سننے کے بعد شاہراہِ دستور سے پاکستان عوامی تحریک کے کارکنان کی واپسی جاری ہے
    • مصنف, ہارون رشید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہرالقادری کی جانب سے منگل کی رات گئے اسلام آباد میں اپنا احتجاج ختم کر کے دیگر شہروں کا رخ کرنے کے اعلان نے جنوری 2013 کی یاد تازہ کر دی۔

انتہائی سرد موسم میں اس وقت کا دھرنا بھی اچانک بظاہر بغیر کسی ’ٹھوس نتیجے‘ کے لپیٹ لیا گیا تھا۔ اس وقت تو پھر بھی کیمروں کے سامنے شان و شوکت کے ساتھ چند وزرا اور سیاست دانوں سے ملاقات کے بعد گھر چلنے کا اعلان سامنے آیا، لیکن اس مرتبہ تو ایسا کچھ نہیں ہوا۔

سوال اس وقت بھی اٹھے تھے اور آج بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔

عوامی تحریک کے سینکڑوں کارکنان اپنا بوریا بستر لپیٹ کر گھروں کو واپس لوٹنے میں مصروف ہیں۔ اہداف کے حصول کا ملال دل میں ہو یا نہ ہو، اپنے قائد کے فیصلے کا دفاع ہر کوئی کر رہا ہے۔ لیکن ان کی باتوں میں وہ جذبہ اور توانائی دکھائی نہیں دے رہی جو ڈی چوک آمد کی وقت تھی۔

صبا عباسی دھرنا دینے والوں میں سے ایک ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ فتح یاب ہوکر لوٹ رہی ہیں کیونکہ ’گو نواز گو‘ کا نعرہ اب ہر زبان پر ہے۔

’عوام سڑکوں پر آئے لیکن حکمران اپنی ڈھٹائی پر قائم رہے۔ انھوں نے عوام پر ظلم کیا لیکن استعفیٰ دینا گوارا نہیں کیا۔‘

ڈی چوک میں خیمہ زن عوامی تحریک کے کارکنان کو گرمی، بارش اور سردی میں سڑک پر اتنی طویل مدت تک ڈیرہ جمانے پر داد کے مستحق ہیں۔ کچھ حاصل کر پائے یا نہیں اس کا انحصار ان کے رہنماؤں پر تھا، کارکنان پر نہیں۔

پاکستان عوامی تحریک کے کارکن کا دعویٰ ہے کہ دھرنا حکومت سے کسی ڈیل کے بغیر ختم کیا گیا
،تصویر کا کیپشنپاکستان عوامی تحریک کے کارکن کا دعویٰ ہے کہ دھرنا حکومت سے کسی ڈیل کے بغیر ختم کیا گیا

محمد ضیا الرحمٰن پہلے دن سے مارچ اور دھرنے کے ساتھ رہے۔ ان کا غصہ عمران خان کی جانب زیادہ دکھائی دیتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کو دھرنا انھوں نے سیکھایا لیکن وہ (عمران) اب سارا کریڈٹ لے رہے ہیں اور سب سے بڑے دھرنے کی بات کر رہے ہیں۔

’دھرنا دینا تو انھیں آتا نہیں ہے، (البتہ) جلسے وہ کر سکتے ہیں۔ ہمارے جانے کے بعد اب انھیں پتہ لگ جائے گا۔‘

دوسری جانب دھرنے میں شریک محمد ظہیر جیسے بعض لوگ اب عوامی تحریک کے دھرنے سے اٹھ کر عمران خان کے کیمپ میں بیٹھنے کی بات کر رہے ہیں۔ ظہیر کا کہنا تھا کہ وہ اپنے اہداف کے لیے یہاں آئے تھے کسی کے پیچھے نہیں آئے تھے۔

’ہم صرف نواز شریف حکومت گرانے کے لیے آئے تھے کسی شخصیت کے پیچھے نہیں آئے تھے۔ جب تک نواز حکومت نہیں جاتی ہم جانے والے نہیں ہیں۔ چاہے ڈاکٹر صاحب چلے گئے کوئی مشکل نہیں ہے۔ اب عمران خان بہت بڑی منصوبہ بندی کر رہا ہے ہم اس کے ساتھ نکلیں گے۔‘

شاہراہ دستور پر ٹھیلوں والے اب بھی آخری گاہکوں کے منتظر ہیں۔
،تصویر کا کیپشنشاہراہ دستور پر ٹھیلوں والے اب بھی آخری گاہکوں کے منتظر ہیں۔

دھرنے کے مقام پر چائے اور پکوڑوں کی دکانیں ابھی بھی قائم ہیں اور وہ شاید آخری گاہک کے جانے کا انتظار کر رہے ہیں۔ صفائی کا انتظام ابھی بھی ناگفتہ بہ ہے۔ خیمے لپٹنے والوں نے اپنے ٹیڈی بیر اور بہت کچھ پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

شہری انتظامیہ کے مطابق صفائی میں کئی ہفتے اور ہریالی واپس لانے میں کئی ماہ لگیں گے۔

ادھر تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ دھرنا دینے والوں کو احساس ہوا ہے کہ دھرنے اور جلسے میں فرق ہوتا ہے۔

سینیئر صحافی مبشر زیدی کہتے ہیں عمران خان پہلے ہی دھرنوں کو جلسوں میں تبدیل کر چکے ہیں۔ ان کا دھرنا تو کب کا محض علامتی دھرنا بن چکا ہے۔

عوامی تحریک کے شرکا تو واپس لوٹ رہے ہیں لیکن تحریک انصاف کے دھرنے کا مقام پہلے ہی سنسان ہے
،تصویر کا کیپشنعوامی تحریک کے شرکا تو واپس لوٹ رہے ہیں لیکن تحریک انصاف کے دھرنے کا مقام پہلے ہی سنسان ہے

’انھیں بھی بہت جلد اپنی حکمتِ عملی پر غور کرنا پڑے گا۔‘

عوامی تحریک کے کارکن یہ ماننے کو تیار نہیں کہ دھرنا حکومت سے کسی معاہدے کے نتیجے میں ختم ہوا۔ اپنی گفتگو میں محمد ضیا الرحمان نے تلخ لہجے میں کہا کہ یہ ممکن ہی نہیں ہے۔

’ڈیل کا لفظ ہم سے میلوں دور ہے، بےغیرت لوگ ڈیل کرتے ہیں ہم ماشاللہ با غیرت لوگ ہیں۔‘

ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ عوامی تحریک کے دھرنے کے ختم ہونے اور اس کے دیگر شہروں میں جانے سے حکومت پر سیاسی دباؤ میں کمی آئے گی یا بڑھے گی۔ ابتدائی دنوں کی تھوڑے سے تناؤ کے علاوہ تو فی الحال دیگر شہروں کے جلسے جلوس بھی انھیں کچھ زیادہ مشکل میں نہیں ڈال رہے ہیں۔