طاہر القادری کا دھرنا ختم کرنے کا اعلان

،تصویر کا ذریعہAP
پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے اسلام آباد میں دو ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری دھرنا ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اب احتجاجی دھرنوں کا دائرہ ملک بھر میں پھیلانے کا اعلان کیا ہے۔
منگل کی شام پارلیمان کے سامنے انقلاب مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دھرنا انقلاب کے سفر میں تبدیل ہوگیا ہے۔
<link type="page"><caption> آزادی اور انقلاب مارچ کی خصوصی کوریج</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/08/140814_pti_long_march_live_page_sa.shtml" platform="highweb"/></link>
طاہر القادری نے کہا کہ ان کی احتجاجی تحریک اگلے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے اور اتحادیوں سے مشاورت کے بعد ہی دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اپنے خطاب میں انھوں نے دھرنے کے شرکا کو فتح کے جذبے کے ساتھ اپنے اپنے گھروں کو واپس جانے کی ہدایت کی۔
انھوں نے کہا کہ اب ملک میں شہر شہر دو دو دن کے دھرنے ہوں گے جن میں وہ خود شریک ہوں گے۔
طاہر القادری نے کہا کہ اب پہلے 23 اکتوبر کو ایبٹ آباد میں دھرنا ہوگا جس کے بعد محرم الحرام کی وجہ سے اس مہم میں تعطل آئے گا اور ایک ماہ بعد 23 نومبر کو بھکر، پانچ دسمبر کو سرگودھا، 14 دسمبر کو سیالکوٹ اور پھر 25 دسمبر کو کراچی میں دھرنا ہوگا۔

،تصویر کا ذریعہAP
اس اعلان کے بعد سما ٹی وی سے بات کرتے ہوئے طاہر القادری نے تسلیم کیا کہ دھرنے سے نظام اور حکومت کی تبدیلی کے مقاصد تو حاصل نہیں ہو سکے لیکن دھرنے کے نتیجے میں قوم بیدار ہوئی ہے اور یہ دیرپا تبدیلی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ دھرنے سے قوم کو اپنا حق مانگنا اور آواز بلند کرنا آ گیا ہے۔
حکومت سے مذاکرات کے بارے میں بات کرتے ہوئے طاہر القادری کا کہنا تھا کہ حکومت سے مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور انھوں نے ہمارے مطالبے نہیں مانے۔’وہ آخر تک پس و پیش سے کام لیتی رہی ہے۔ ہم پہلے دن جہاں تھے آج بھی وہیں ہیں۔‘
خیال رہے کہ طاہر القادری نے موجودہ حکومت کے خاتمے، نظام کی تبدیلی اور ماڈل ٹاؤن کے سانحے میں ہلاک ہونے والے افراد کو انصاف دلانے کے مطالبات کے تحت 14 اگست کو لاہور سے انقلاب مارچ کا آغاز کیا تھا جو اسلام آباد پہنچ کر 20 اگست سے پارلیمان کے سامنے ڈی چوک میں احتجاجی دھرنے میں تبدیل ہوگیا تھا۔
اس دھرنے کے دوران عوامی تحریک کے کارکن کچھ عرصے کے لیے پارلیمان کے احاطے میں بھر دھرنا دیے بیٹھے رہے تھے۔







