’پارلیمان اور ٹی وی پر حملوں کی ویڈیو فوٹیج پیش کریں‘

،تصویر کا ذریعہAFP
سپریم کورٹ نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ 31 اگست کو پارلیمنٹ ہاؤس اور یکم ستمبر کو ریاست کے زیرِانتظام چلنے والے سرکاری ٹیلی وژن پر حملوں سے متعلق ویڈیو فوٹیج عدالت میں جمع کروائیں۔
عدالت نے یہ حکم ممکنہ ماورائے اقدام سے متعلق دائر درخواستوں پر دیے۔ چیف جسٹس ناصرالملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے ان درخواستوں کی سماعت کی۔
عدالت کا کہنا ہے کہ لوگوں کو روک کر اُنھیں تشدد کا نشانہ بنانے کو کیسے انقلاب کا نام دیا جا سکتا ہے۔
اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ان عمارتوں پر حملہ کرنے والے افراد کے خلاف درج ہونے والے مقدمات کو عدالتیں ختم کروا رہی ہیں جبکہ اس کے برعکس پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر مقدمات درج ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے ان اداروں میں بددلی پھیل گئی ہے۔
اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ اس کا نوٹس لیں اور مناسب حکم جاری کریں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اُن کے پاس اپیل کرنے کا حق ہے جسے استعمال کیا جائے۔
اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے وزیر اعظم اور وفاقی وزرا کے خلاف 31 اگست کے واقعے کے نتیجے میں درج ہونے والے مقدمات کی خلاف اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پاکستان عوامی تحریک کے وکیل علی ظفر کہنا ہے کہ دھرنے سیاسی معاملہ ہیں اور عدالت کو ایسے معاملات سے دور رہنا چاہیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بینچ میں موجود جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ان درخواستوں کی سماعت کے دوران پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ سپریم کورٹ کی طرف جانے والی شاہراہ کی تین لینز خالی کر دیں گے لیکن بعد میں وہ اس سے مکر گئے۔
اُنھوں نے پاکستان عوامی تحریک کے وکیل سے کہا کہ وہ ایسے افراد سے متعلق خود سزا تجویز کریں جو بیان دے کر مکر جائیں۔
بینچ میں موجود جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ اگر انقلاب سسٹم میں رہتے ہوئے لے کر آنا ہے تو پھر اس سسٹم کی حدود قیود کو بھی ماننا پڑے گا۔ اُنھوں نے کہا کہ انقلاب تو ہوتا ہی سسٹم کے خلاف ہے۔
جسٹس جواد ایس خواجہ نے عوامی تحریک کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو روک کر اُن کی تلاشی لینا اور پھر تشدد کرنا کون سا انقلاب ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ ایسے حالات میں عدالت کو کوئی مناسب حکم جاری کرنا پڑے گا۔ عوامی تحریک کے وکیل کا کہنا تھا کہ عدالت کو اس بارے میں تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
چیف جسٹس نے علی ظفر سے استفسار کیا کہ وہ عدالت میں سیاسی شخصیت کے طور پر کھڑے ہیں یا ایک وکیل کی حثیت سے۔ ان درخواستوں کی سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی۔







