امریکہ اور افغانستان کے معاہدے کا خیرمقدم

پاکستان نے افغانستان کی نئی حکومت اور امریکہ کے درمیان سلامتی کے معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے افغان حکومت کو فوجی اور معاشی وسائل میسر آ جائیں گے۔
وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے قومی و خارجہ امور خارجہ سرتاج عزیز نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا یہی موقف رہا ہے کہ یہ مسئلہ افغانستان اور امریکہ کا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ماہرین کی رائے یہی ہے کہ اس سے افغان سکیورٹی فورسز کو حفاظتی حصار ملے گا: ’امریکہ اور نیٹو کے فوجی افغان سکیورٹی فورس کی تربیت اور حفاظت کے لیے وہاں رہیں گے۔‘
افغان امور کے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس وقت ساڑھے تین لاکھ افغان سکیورٹی فورسز کو مدد کی ضرورت ہے اور امریکہ اور نیٹو افواج کی موجودگی بہت مفید ثابت ہو گی۔
سرتاج عزیز کا مزید کہنا تھا: ’میرے خیال میں اس سے بڑھ کر زیادہ اہم یہ ہے کہ اس معاہدے کے بعد افغانستان کو جو دفاعی اور معاشی وسائل درکار ہیں وہ میسر آ جائیں گے۔‘
نئی افغان حکومت اور دوسری جانب امریکہ کے ساتھ اس اہم معاہدے کے بعد پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجود عدم اعتماد اور باہمی توقعات پر کیا اثر پڑے گا؟ اس سوال کے جواب میں سرتاج عزیز نے افغان صدر کی پہلی تقریر کو نہایت مثبت قرار دیا:
’افغان صدر نے اپنی پہلی تقریر میں پالیسی بیان دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان یا دوسرے ممالک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے اور یہی پاکستان کا موقف ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک بہت اچھی ابتدا ہے کہ سرحد کو سنبھالنے کا طریقہ کار بھی طے کیا جا سکے گا تا کہ نہ یہاں سے کوئی وہاں جائے اور نہ وہاں سے کوئی یہاں آئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سرتاج عزیز نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ سرحدی واقعات کے بارے میں باہمی اعتماد کا فقدان بھی کافی حد تک کم ہو جائے گا۔
پاکستانی دفتر خارجہ اور فوج کے بیانات میں بارہا یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ سرحدی خلاف ورزیوں اور ملا فضل اللہ کی حوالگی پر افغان حکومت مدد نہیں کر رہی، تو اس سلسلے میں نئی حکومت سے کیا توقع ہے؟
اس کے جواب میں سرتاج عزیز نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے کی جانے والی جوابی کارروائی افغانستان پر حملہ نہیں ہوتی:
’پاکستان مخالف عناصر جب وہاں جا کر ہم پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان کی جانب سے جواب دینے پر وہ کہتے ہیں کہ یہ افغانستان پر حملہ ہے۔ ہم خدانخواستہ افغانستان پر کیوں حملہ کریں گے؟ لیکن ادھر سے ہم پر فائرنگ ہو گی تو ہمیں بھی جواب تو دینا پڑے گا۔‘
افغانستان کی نئی حکومت نے منگل کو امریکہ کے ساتھ دو طرفہ سکیورٹی کے اس معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں جس کے تحت سنہ 2014 کے بعد بھی امریکی فوجی افغانستان میں رہیں گے۔
سکیورٹی معاہدے کی رو سے بعض مخصوص فوجی دستوں کو ملک میں رہنے کی اجازت ہوگی تاکہ وہ ’انسدادِ دہشت گردی‘ کی کارروائیاں کر سکیں اور افغان فوج کو ضروی تعاون اور تربیت فراہم کر سکیں۔
افغانستان میں آئندہ سال امریکی فوجیوں کی نصف تعداد رہ جائے گی اور پھر اس کے بعد سنہ 2016 کے اوائل میں اس میں بھی مزید کمی کی جائے گی۔







