’حکومت کے اعصاب کب تک ساتھ دیتے ہیں‘

 لاہور میں تحریک انصاف کے جسلے کو تاریخی قرار دیا جا رہا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن لاہور میں تحریک انصاف کے جسلے کو تاریخی قرار دیا جا رہا ہے
    • مصنف, حمیرا کنول
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

ان 45 دنوں میں آخر ایسا کیا ہوا کہ زندہ دلانِ لاہور عمران خان کے لیے اتنی بڑی تعداد میں مینار پاکستان پر جمع ہو گئے جبکہ 14 اگست کو لانگ مارج کے آغاز پر اسی لاہور میں منظر ذرا مختلف تھا۔

پاکستان کے سیاسی ماہرین اور تجزیہ نگار ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال میں مسلم لیگ (ن) کے قلب ’لاہور‘ میں پی ٹی آئی کے حالیہ جلسے کو نہ صرف دونوں سیاسی جماعتوں بلکہ ملک کی سیاسی تاریخ کے لیے کسی نئے موڑ کا پیش خیمہ سمجھ رہے ہیں۔

سینیئر کالم نگار ایاز امیر خود اتوار کو مینار پاکستان میں پی ٹی آئی کے جلسے میں موجود تھے ۔ وہ کہتے ہیں کہ لاہور مسلم لیگ (ن) کا گڑھ ہے اس تصور کو اس جلسے نے بڑا دھچکا لگایا ہے اور یہ دھرنے کا ثمر ہے۔

’لوگوں کی، جن میں ڈیفنس سے لے کر کچی کالونی تک کے لوگ شامل تھے، نعرہ بازی سے پتہ چلتا تھا کہ لوگ نظام سے اکتائے ہوئے ہیں۔صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ یہ کوئی بلایا گیا جلسہ نہیں بلکہ لوگ خود چل کر یہاں آئے ہیں۔‘

سینیئر تجزیہ نگار اور انگریزی روزنامے ’پاکستان ٹوڈے‘ کے مدیر اعلیٰ عارف نظامی کا خیال ہے کہ لاہور میں ہونے والا جلسہ ملکی سیاست میں یہ ایک نئی جہت ہے اور یہ نوجوان طبقے کی خواہشات کا ترجمان ہے۔

’پاکستان کی سیاست میں یہ ایک نئی جہت ہے، تاریخ بدلی ہے، یہ اس چیز کی غمازی کرتا ہے کہ پاکستان میں عمران خان کے حامی جن میں بڑی تعداد نوجوانوں اور تعلیم یافتہ طبقے کی ہے۔‘

دوسری جانب ٹی وی اینکر اور کالم نگار نسیم زہرہ سمجھتی ہیں پی ٹی آئی جو چاہتی تھی اس میں وہ کامیاب رہی لیکن اب یہ جلسہ حکومت کو سوچنے پر مجبور کرے گا کہ کیا سیاست میں حالات معمول کے مطابق آگے بڑھ سکتے ہیں اور حکومت اپنے پانچ سال پورے کر سکے گی یا نہیں؟ ان کی بھی یہ سوچ ہے کہ 45 دن تک تواتر کے ساتھ عمران نے نظام کی خرابیوں کے حوالے سے جو سوالات اٹھائے اور عوام کو پیغام دیا گزشتہ شب کا جلسہ اسی کا اثر ہے۔‘

خواتین میں عمران کی مقبولیت روز اول کی طرح ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنخواتین میں عمران کی مقبولیت روز اول کی طرح ہے

سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار مظہر عباس ذرا آگے دیکھ رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ شاید یہ مڈٹرم الیکشن کی تیاری کے لیے فضا تیار کرنا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ عمران خان چاہتے ہیں کہ پورے ملک انتخابات کی شفافیت کے حوالے سے سوال اٹھے اور وہ اس میں کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں۔

’میڈیا کی پبلسٹی سے ان کی تحریک کو بھی تقویت ملی ہے، عمران اپنی تحریک کا اثر برقرار رکھنا چاہتے ہیں تاکہ لوگ بات کریں کہ واقعی انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی اور وہ بعد میں اپنا مطالبہ تبدیل کریں اور مڈٹرم الیکشن کی بات کریں۔‘

یہاں سوال یہ ہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس وزیراعظم کے مستعفیٰ نہ ہونے پر اصرار اور مفاہمت کروانے کے لیے کوشاں سیاسی جرگے کی ناکامی کے بعد حکومت کے پاس کیا آپشنز باقی ہیں؟

اینکر پرسن نسیم زہرہ کا کہنا ہے کہ حکومت تو کوشش کر رہی ہے کہ وہ اپنا کام کرے لیکن حکومت کو فیصلے کرنے پڑیں گے بات دھرنے تک نہیں رہی۔ ’عمران شہر شہر جا رہے ہیں جلسہ کرنے کے لیے، ممکن ہے کہ عمران خان پہیہ جام ہڑتال کی کال دے دیں۔‘

وہ یہ بھی کہتی ہیں نواز شریف نے استعفٰی نہیں دینا اور عمران خان نے گھر نہیں جانا لیکن یہ بھی عین ممکن ہے کہ آنے والے دنوں میں سیاسی جماعتیں پلٹا کھا جائیں یا نواز شریف کی اپنی پارٹی میں پھوٹ پڑ جائے۔

ایاز امیر کا خیال ہے کہ’حکومت میں اعتماد ختم ہو رہا ہے، ہوسکتا ہے کہ پریشر مزید بڑھے اور جلسوں اور دھرنوں کے پریشر کے درپردہ کوئی پریشر ہو جو انتخابات کی طرف لے جائے یہ صورتحال زیادہ دیر نہیں رہ سکتی۔‘

عارف نظامی کا خیال ہے کہ اب دونوں جانب سے تالی بجے تو پھر ہی کوئی حل نکل سکتا ہے۔ تاہم ان کا یہ بھی خیال ہے کہ فوج خود کو غیر جانبدار تو کہتی ہے لیکن پھر یہ بھی کہتی ہے کہ مذاکرات کرو طاقت کا استعمال نہ کریں۔’

انھیں منتخب حکومت کی امداد کرنی چاہیے لیکن وہ غنیمت ہے بجائے اس کے جس میں وہ ماورائے آئینی تبدیلی کے ذریعے مداخلت کرتے۔‘

سیاسی مسئلے کے حل کے لیےتجزیہ نگار مظہر عباس کی تجویز تھی کہ حکومت کو عمران کے مطالبات میں عملی اقدامات اٹھانے چاہییں۔

’اگر دیگر مطالبات جن میں سب سے اہم جوڈیشل کمیشن اور اس کے طریقہ کار پر بات طے ہو جاتی ہے تو میرا خیال ہے باقی مطالبات اس کے ساتھ ہی حل ہو سکتے ہیں لیکن ابھی تک اس پر بھی کوئی اتفاق رائے نہیں ہوا ہے۔‘

 پاکستان میں جلسے جلوس ہمیشہ ہی سیاسی عمل کا اہم حصہ رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشن پاکستان میں جلسے جلوس ہمیشہ ہی سیاسی عمل کا اہم حصہ رہے ہیں

پاکستان کے صحافتی حلقے اور مبصرین اس بات کا اعتراف تو کرتے ہیں کہ عمران خان خیبر پختونخوا میں حکومت ملنے پر ’نئے پاکستان‘ کا عملی نمونہ پیش کرنے میں ناکام رہے لیکن ماہرین موجودہ سیاسی صورتحال میں پی ٹی آئی کے لاہور کے جلسے کو ان کی حکومتی کارکردگی پر نہیں پرکھ رہے نہ ہی انہیں یہ فکر ہے کہ عمران خان کی سوچ میں اب بھی سیاسی پختگی نہیں وہ کیسے عوام کی امنگوں پر پورے اتریں گے؟

ماہرین کی نظریں مستقبل قریب میں پاکستان کے سیاسی نقشے میں آنے والی کسی تبدیلی پر ہیں۔

آج بحث یہ نہیں کی جا رہی کہ عمران خان کا وزیراعظم کو گھر بھیجنے کا مطالبہ آئینی ہے یا نہیں بلکہ موضوع یہ ہے کہ کیا دھرنوں کے موسم کے بعد اب جلسوں کے سامنے حکومت کے اعصاب کب تک ساتھ دیں گے۔