پاکستان فوج میں ’ریڈکل ازم‘ بڑھ نہیں رہا

،تصویر کا ذریعہAP
پاکستان فوج کے لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ جنرل عبدالقیوم نے کہا ہے کہ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج میں ریڈکل ازم بڑھ ہے۔
بی بی سی اردو سروس کے ریڈیو پروگرام سیربین میں انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج انتہائی منظم اور ڈسپلنڈ فورسز ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ماضی میں اکا دکا واقعات ہوئے ہیں جن میں سابق صدر جنرل ریٹائرڈ مشرف پر حملے کا واقع بھی تھا جس میں کچھ اندرونی عناصر کا شدت پسندوں سے تعلق سامنے آیا تھا۔
پاکستان کے شہر کراچی میں پاکستان بحریہ کے ڈاک یارڈ پر دو دن قبل حملے شدت پسندوں کا حملہ ناکام بنا دیا گیا تھا جس میں ایک افسر ہلاک اور نیوی کے ساتھ اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں ایک بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ نیوی کے ڈاک یارڈ پر حملے میں حملہ آووروں کو اندرونی مدد بھی حاصل تھی۔
پاکستان نیوی کے ترجمان نے اس بیان کی تردید کی تھی۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پاکستان مسلح افواج میں گیارہ ستمبر سنہ دو ہزار ایک کے بعد دنیا میں ہونے والے واقعات کی وجہ سے ریڈیکل ازم بڑھا ہے۔
جنرل ریٹائرڈ قیوم نے جواباً دلیل دی کہ سویت یونین کے خلاف جنگ پاکستان کی بقا کی جنگ تھی جس میں مغربی طاقتوں نے پاکستان کی مدد کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ جو لوگ اس وقت افغانستان میں تھے وہ اپنا قومی فرض ادا کر رہے تھے۔
واشنگٹن سے صحافی اور تجزیہ کار ناصر جمال نے اس انٹرویو میں کہا ہے کہ ریڈکل ازم مسلح افواج میں صرف نچلی سطح تک محدود نہیں ہیں بالکہ اس سے افسران بھی متاثر ہوئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ افسران کے سخت گیر خیالات کا اسی وقت علم ہوتا ہے جب وہ فوج سے ریٹائر ہو جاتے ہیں۔
جنرل قیوم نے کہا کہ گزشتہ چند برس میں دنیا کی تمام خفیہ ایجنسیوں کے ایجنٹ پاکستان میں داخل ہوئے ہیں جن میں امریکہ کی بدنام زمانہ تنظیم بلیک واٹر بھی شامل تھی۔
انھوں نے کہا یہ ایجنسی ڈالروں کے بل بوتے پر لوگوں کی خریدنے کی کوششیں کرتی رہتی ہیں۔
پاکستان کی دفاعی تنضیبات پر حملوں کے بارے میں انھوں نے کہا حملہ آووروں کی سٹلائٹ کے ذریعے رہنمائی کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ ان عناصر کو بیرونی مدد دی جاتی ہے۔







