دتہ خیل میں فوج اور شدت پسندوں میں جھڑپ، آٹھ ہلاک

پاکستان فوج نے کہا ہے کہ آپریشن ضرب عضب کے دوران سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں میں جھڑپ میں ایک سکیورٹی اہلکار، ایک سویلین اور چھ شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔
آئی ایس پی آر نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں بتایا ہے کہ شمالی وزیرستان کی تحصیل دتہ خیل میں آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں میں جھڑپ ہوئی، جس میں ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گیا، جبکہ فورسز کو سامان سپلائی کرنے والا ایک سویلین بھی شدت پسندوں کا نشانہ بنا۔
فورسز کی جوابی کارروائی میں چھ شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر نے گذشتہ ہفتے بتایا تھا کہ آپریشن ضربِ عضب منصوبہ بندی کے مطابق جاری ہے اور اس کے دوران اب تک 910 شدت پسندوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔
بیان میں بتایا گیا کہ ’کھجوری، میرعلی، میران شاہ، دتہ خیل روڈ اور گھریوم جھالر روڈ کو محفوظ بنایا جا چکا ہے۔‘
اس کے علاوہ فوج نے میرعلی، دتہ خیل، بویا اور دیگان قصبوں کو بھی عسکریت پسندوں سے خالی کروانے کا دعویٰ کیا ہے۔
بیان کے مطابق 27 بم ساز فیکٹریاں، اور ایک ایک راکٹ اور ایمونیشن فیکٹری بھی تباہ کر دی گئی ہے، جب کہ عسکریت پسندوں کے زیرِ استعمال مواصلاتی ساز و سامان، اسلحہ اور گاڑیاں قبضے میں لے لی گئی ہیں۔
آئی ایس پی آر نے بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ اب تک کی کارروائی میں 82 فوجی ہلاک ہوئے ہیں، جب کہ 269 زخمی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ سکیورٹی فورسز نے آپریشن ضربِ عضب کا آغاز 15 جون کو شمالی وزیرستان میں کیا تھا۔







