ضربِ عضب: اب تک 910 شدت پسند ہلاک

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے ادارے آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ آپریشن ضربِ عضب منصوبہ بندی کے مطابق جاری ہے اور اس کے دوران اب تک 910 شدت پسندوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔
<link type="page"><caption> پناہ گزینوں کو سکول خالی کرنے کا حکم</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/08/140825_waziristan_idp_school_vacate_qs.shtml" platform="highweb"/></link>
ادارے کی طرف سے بدھ کی صبح جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کھجوری، میرعلی، میران شاہ، دتہ خیل روڈ اور گھریوم جھالر روڈ کو محفوظ بنایا جا چکا ہے۔
اس کے علاوہ فوج نے میرعلی، دتہ خیل، بویا اور دیگان قصبوں کو بھی عسکریت پسندوں سے خالی کروا لیا ہے۔
بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ 27 بم ساز فیکٹریاں، اور ایک ایک راکٹ اور ایمونیشن فیکٹری بھی تباہ کر دی گئی ہے، جب کہ عسکریت پسندوں کے زیرِ استعمال مواصلاتی ساز و سامان، اسلحہ اور گاڑیاں قبضے میں لے لی گئی ہیں۔
آئی ایس پی آر نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ اب تک تمام ملک میں 82 فوجی ہلاک ہوئے ہیں، جب کہ 269 زخمی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAP
آپریشن ضرب عضب میں سکیورٹی فورسز نے کیا اہداف حاصل کیے اس بارے میں آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی کیونکہ اس علاقے تک آزاد میڈیا سمیت کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو رسائی حاصل نہیں ہے۔
سکیورٹی فورسز کی جانب سے اب تک صرف ایک بار ملکی اور بین الاقوامی میڈیا کو میر علی کا دورہ کروایا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق فوج کی جانب سے شمالی وزیرستان سے بےگھر ہونے والے افراد کی مدد کے لیے کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک میں 97 ہزار سے زیادہ پناہ گزین خاندانوں میں خوراک تقیسم کی گئی ہے۔
فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ شمالی وزیرستان میں جو علاقے عسکریت پسند سے پاک کر دیے گئے ہیں وہاں سے تعلق رکھنے والے پناہ گزینوں کو کب تک واپس اپنے گھروں کو جانے کی اجازت ملے گی۔







