چوہدری نثار اس ایوان میں آ کر معافی مانگیں: سید خورشید شاہ

،تصویر کا ذریعہEPA
پارلیمان کے خصوصی مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قائد حزبِ اختلاف سید خورشید شاہ نے سینیٹر اعتزاز احسن پر لگائے جانے والے الزاماتکا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’چوہدری نثار اس ایوان میں آ کر معافی مانگیں‘۔
پارلیمان کے خصوصی مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قائد حزبِ اختلاف سید خورشید شاہ نے چوہدری اعتزاز پر لگائے گئے الزامات کی پرزور مذمت کی۔ انھوں نے وزیرِ اعظم سے درخواست کی کہ ’ہم آپ کو کمزور نہیں کرنا چاہتے، مگر یہ درخواست کرتے ہیں کہ اس ایوان کے ارکان کی لاج رکھی جائے۔‘
خورشید شاہ نے کہا کہ ’اعتزاز احسن کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ تمام حزبِ اختلاف کا مسئلہ ہے، کیوں کہ اس ایوان کے ایک ایک فرد کی دل آزاری ہوئی ہے۔ ایک شخص نے پورے ایوان کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس ایوان سے اتحاد کی خوشبو باہر جاتی، لیکن دھرنے والے چند ہزار لوگوں کو اس بیان نے طاقت ور بنایا ہے، اور مری ہوئی طاقت کو زندہ کر دیا ہے۔
پارلیمان کے خصوصی مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خورشید شاہ نے الزام لگایا کہ ’چوہدری نثار خود اس نظام کے خلاف ہیں، کسی اور کو ان کی ڈوریاں ہلانے کی ضرورت نہیں ہے۔‘
انھوں نے مطالبہ کیا کہ چوہدری نثار اس ایوان میں آ کر معافی مانگیں۔
خورشید شاہ نے چوہدری نثار علی خان پر سخت حملے کرتے ہوئے انھیں سازشی قرار دیا اور کہا کہ وہ خود سازش کر کے خود وزیرِ اعظم بننا چاہتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ہم آئین اور پارلیمان کو بچانا چاہتے ہیں لیکن ہمیں الزام دیا جاتا ہے کہ آپ حکومت کے ساتھ مل گئے ہیں۔ انھوں نے وزیرِ اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے ساتھ کچھ ’پورس کے ہاتھی‘ موجود ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خورشید شاہ نے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار کی جانب سے پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن پر کی جانے والی تنقید کا سخت الفاظ میں جواب دیتے ہوئے انھیں ’آستین کا سانپ‘ قرار دیا۔
وزیر اعظم نواز شریف

،تصویر کا ذریعہAFP
وزیرِ اعظم نواز شریف سید خورشید شاہ کے خطاب کے بعد وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ ’رات میں نے اسی وقت خورشید شاہ اور اعتزاز احسن بات کی اور ان سے افسوس اور معذرت کی، اور میں اس وقت بھی اعتزاز احسن سے معذرت کرتا ہوں۔‘ انھوں نے کہا کہ اعتزاز احسن میرے ساتھی ہیں اور ان سے تعلق رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت ہمارے سامنے ایک بڑا مسئلہ ہے، ہمیں ادھر ادھر کی باتوں میں الجھنا نہیں چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ میں مجھے اپنی حکومت اور اقتدار کی پرواہ نہیں ہے۔ انھوں نے کہا پاکستان کی حکومت پھولوں کی سیج نہیں بلکہ کانٹوں کا بستر ہے۔
نواز شریف نے کہا کہ مجھے اس بات کی واقعتاً بڑی تکلیف ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ کل رات بھی ایک ہلکی سی جھڑپ ہوئی تھی جسے ہمارے ساتھیوں نے بیچ میں پڑ کر معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی۔
انھوں نے کہا کہ حکومت اور حزبِ اختلاف کو ایک دوسرے سے گلے شکوے ہوتے رہتے ہیں لیکن اس وقت ہم جس بحران سے گزر رہے ہیں۔ جب بھی ایسا موقع آئے ہر چیز کو بالائے طاق رکھ کر جمہوریت کی بقا کے لیے ایک دوسرے کی حمایت کرنی چاہیے۔







