پشاور: وائس چانسلر اجمل خان بازیاب

پروفیسر اجمل خان اور ان کے ڈرائیور کو سات ستمبر سنہ 2010 کو طالبان نے اس وقت اغوا کر لیا گیا تھا جب وہ گھر سے یونیورسٹی جا رہے تھے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنپروفیسر اجمل خان اور ان کے ڈرائیور کو سات ستمبر سنہ 2010 کو طالبان نے اس وقت اغوا کر لیا گیا تھا جب وہ گھر سے یونیورسٹی جا رہے تھے
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے عسکری ذرائع کے مطابق صوبے خیبر پختونخوا کی تاریخی درسگاہ اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے اغوا ہونے والے وائس چانسلر اجمل خان کو بازیاب کرا لیا گیا ہے۔

اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے وائس چانسلر اجمل خان کو چار سال قبل پشاور میں گھر سے دفتر جاتے ہوئے اغوا کیا گیا تھا۔

عسکری ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز گذشتہ چار سال سے مغوی وائس چانسلر کی تلاش میں تھیں اور بالاآخر انھیں بازیاب کرا لیا گیا۔

ذرائع کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ مغوی وائس چانسلر کو کس طرح اور کس علاقے سے بازیاب کرایا گیا ہے۔ یہ بھی واضح نہیں کیا گیا ہے کہ مغوی وائس چانسلر کو آپریشن کے نتیجے میں آزاد کرایا گیا یا ان کے بدلے شدت پسند قیدیوں کو رہا کیا گیا۔

حکام کے مطابق مغوی وائس چانسلر بازیابی کے بعد اپنے گھر پہنچ چکے ہیں۔

پروفیسر اجمل خان اور ان کے ڈرائیور کو سات ستمبر سنہ 2010 کو طالبان نے اس وقت اغوا کر لیا گیا تھا جب وہ گھر سے یونیورسٹی جا رہے تھے۔

اجمل خان کے اغوا کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی تھی اور ان کی بازیابی کے بدلے اپنے ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

اجمل خان کے ہمراہ ان کے ڈرائیور کو بھی اغوا کیا گیا تھا جسے گذشتہ سال بازیاب کرا لیا گیا تھا۔

گذشتہ چار سال کے عرصے کے دوران اجمل خان کے پانچ کے قریب ویڈیو پیغامات جاری کیے گئے جن میں انھوں نے بار بار اپنی خرابیِ صحت کا ذکر کیا تھا۔

اجمل خان کی بازیابی ہونے کو تھی کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے قائم حکومتی کمیٹیوں اور طالبان کے درمیان بعض معاملات کی وجہ سے معاہدہ طے نہیں پا سکا تھا۔

ان مذاکرات میں طالبان نے خواتین، بوڑھوں اور بچوں کی بازیابی کا مطالبہ کیا تھا۔

اس سال مارچ میں مذاکرات کے دوران حکومتی کمیٹی اور طالبان کی مذاکراتی کمیٹی نے ان فہرستوں کا تبادلہ کیا تھا جس میں دونوں جانب سے مطالبات سامنے رکھے گئے تھے۔

اجمل خان پشاور یونیورسٹی کے پرووسٹ اور رجسٹرار کے عہدے پر بھی فائز رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان کے وائس چانسلر بھی رہ چکے ہیں۔