الیکشن میں دھاندلی کے الزامات مسترد

غیر ملکی مبصرین نے بھی سنہ 2013 کو ہونے والے عام انتخابات کی تعریف کی تھی: الیکشن کمیشن

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنغیر ملکی مبصرین نے بھی سنہ 2013 کو ہونے والے عام انتخابات کی تعریف کی تھی: الیکشن کمیشن
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے گذشتہ برس ہونے والے عام انتخابات میں ہونے والی دھاندلی سے متعلق الزامات کو مسترد کردیا ہے۔

یہ الزامات پاکستان تحریک انصاف اور دیگر سیاسی جماعتوں کی طرف سے عائد کیے گئے تھے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے الزام عائد کیا ہے کہ ریٹرننگ افسران نے ملی بھگت کر کے پاکستان مسلم لیگ نواز کو عام انتخابات میں کامیابی دلوائی ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ انتخابات میں دھاندلی کے ثبوت موجود ہیں لیکن ابھی تک اُن کی جماعت یہ ثبوت الیکشن ٹربیونلز میں پیش نہیں کر سکی۔

الیکشن کمیشن کا اجلاس سپریم کورٹ کے جج اور قائم مقام چیف الیکشن کمشنر انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں ہوا جس میں چاروں صوبائی الیکشن کمشنرز نے شرکت کی۔

الیکشن کمیشن کے اہلکار کے مطابق سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی ریٹرننگ افسران سے خطاب سے متعلق ویڈیو فلم بھی منگوائی گئی تھی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ گذشتہ برس ہونے والے عام انتخابات میں سیاسی جماعتوں کی درخواست پر عدلیہ سے ریٹرننگ افسران لیے گئے تھے۔ اجلاس میں پاکستان پرنٹنگ پریس اور دیگر اداروں نے شرکا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بیلٹ پیپرز فوج کی نگرانی میں چھپوائے گئے تھے اور اضافی کاغذ کو جلا دیا گیا تھا۔

بیلٹ پیپرز فوج کی نگرانی میں چھپوائے گیے تھے اور اضافی کاغذ کو جلا دیا گیا تھا: الیکشن کمیشن

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبیلٹ پیپرز فوج کی نگرانی میں چھپوائے گیے تھے اور اضافی کاغذ کو جلا دیا گیا تھا: الیکشن کمیشن

اس کے علاوہ ان بیلٹ پیپرز پر سریل نمبر لگانے کے لیے 22 افراد کی خدمات حاصل کی گئی تھیں جنھیں پولیس کی حفاظت میں لاہور سے اسلام آباد لایا گیا تھا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ کسی نجی پرنٹنگ پریس سے بیلٹ پیپرز چھپوانے کے ثبوت نہیں ملے۔

اجلاس میں الیکشن کمیشن کے سابق ایڈیشنل سیکریٹری افضل خان کی طرف سے انتخابات میں مبینہ دھاندلی سے متلعق لگائے گئے الزامات کی مذمت کی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ غیر ملکی مبصرین نے بھی سنہ 2013 کو ہونے والے عام انتخابات کی تعریف کی تھی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ الیکشن ٹربیونلز نے ماضی کی نسبت بہتر انداز میں کام کیا ہے اور انھوں نے 300 سے زائد مقدمات نمٹائے اور اب صرف 90 مقدمات ٹربیونلز کے پاس زیر سماعت ہیں۔