پاکستان میں نیا جہادی بھنور

،تصویر کا ذریعہHasan Abdullah
- مصنف, حسن عبداللہ
- عہدہ, صحافی
معلومات اور تحقیق کو اگر سرکاری اعلامیوں تک محدود رکھا جائے تو یہ تاثر قائم ہوتا ہے کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب نے عسکریت پسندوں کی کمر توڑ دی ہے۔
مگر حقائق تلخ ہیں۔ آپریشن شروع ہونے سے کوئی ایک ماہ قبل جب میں شمالی وزیرستان میں کئی ہفتے تک قیام پذیر تھا، تو القاعدہ، طالبان اور ان سے وابستہ جہادی گروپ اپنا سامان باندھ چکے تھے۔ نئے ٹھکانوں کا تعین انھوں نے پہلے ہی کر لیا تھا۔ اور اب ایک مرتبہ پھر اپنے نئے مراکز میں بیٹھ کر انھوں نے پاکستان کو نئے چیلنجوں سے دوچار کرنے کے لیے جماعت الاحرار نامی ایک نئی تنظیم کو متحرک کر دیا ہے۔
جماعت الاحرار کیا ہے؟

،تصویر کا ذریعہHassan Abdullah
جماعت الاحرار کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے مختلف حلقوں سے تعلق رکھنے والے افراد پر مشتمل ایک نئی تنظیم ہے۔ اس میں شامل اکثریت کا تعلق مہمند ایجنسی سے ہے۔ جبکہ خیبر ایجنسی، اورکزئی ایجنسی، باجوڑ ایجنسی، چارسدہ، پشاور، کراچی اور اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے جہادیوں کی کثیر تعداد بھی اس میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ کچھ عرصہ قبل وجود میں آنے والی تنظیم احرار الہند بھی اس میں ضم ہوگئی ہے۔
افغانستان کے کنڑ اور ننگرہار کے علاقوں میں قائم ہونے والی یہ جماعت ماضی کی طالبان روایات کے برخلاف مدارس کے طلبہ کے علاوہ پاکستان کی یونیورسٹیوں سے اپنے کارکنوں کی کھیپ تیار کرنے میں بہت دلچسپی رکھتی ہے۔
جماعت الاحرار نے افغانستان کے مختلف علاقوں میں کئی میڈیا سینٹر قائم کر لیے ہیں جہاں شمسی توانائی سے لے کر سیٹلائٹ انٹرنیٹ تک موجود ہے۔
نئی تنظیم کیوں؟
جماعت الاحرار کے قیام میں بنیادی کردار تحریک طالبان پاکستان مہمند ایجنسی نے ادا کیا ہے۔ طالبان کے حلقہ مہمند اور اس کے علاوہ دیگر حلقوں کے کمانڈروں کو سابق مرکزی امیر حکیم اللہ محسود سے بعض شکایات تھیں۔ ان کا الزام تھا کہ حکیم اللہ نے اقربا پروری کی بنیاد پر بیشتر نااہل افراد کو تحریک طالبان میں اہم عہدوں پر فائز کیا۔
دوسری شکایت یہ تھی کہ مرکزی قیادت پر براجمان بعض افراد کی سوچ ’محدود‘ ہے جس میں قبائلی تعصب کا عنصر شامل ہے اور وہ صرف وزیرستان میں بعض مراعات پر ہی راضی ہو جائیں گے۔ جبکہ شکایت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ان کا ایجنڈا ایک عالمی خلافت کا قیام ہے۔
تیسری شکایت یہ تھی کہ ٹی ٹی پی میں شامل بعض عناصر مسلکی بنیادوں پر فتنہ انگیزی کے مرتکب ہیں، کہیں سلفی دیوبندی تو کہیں حیاتی اور مماتی کی بنیادوں پر۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چوتھی شکایت یہ تھی کہ بعض طاقتور جرائم پیشہ افراد تحریک میں شامل ہیں جو ناجائز بھتہ خوری اور مسلمانوں کا ’قتلِ ناحق‘ کر رہے ہیں۔
یہاں یہ واضح کرنا مناسب ہوگا کہ تحریکِ طالبان پاکستان کے اکابرین کے مطابق بھتہ صرف ’احمدیوں، شیعہ، اسماعیلی اور دیگر اقلیتوں سے وصول کرنا جائز ہے‘ جنھیں وہ کافر قرار دیتے ہیں۔
چند ماہ قبل ٹی ٹی پی مہمند کے سربراہ خالد خراسانی سے تفصیلی ملاقات ہوئی۔ اس وقت ان کا کہنا تھا کہ وہ اور بہت سے جنگجو وزیرستان اور کراچی میں ٹی ٹی پی کے مختلف دھڑوں کے مابین لڑائی سے سخت نالاں ہیں اور ان کی بھرپور کوششوں کے باوجود یہ گروہ آپس میں لڑائی سے باز نہیں آئے۔

،تصویر کا ذریعہHasan Abdullah
خالد خراسانی کے ایک سینیئر کمانڈر کا کہنا تھا کہ انھیں اس بات کی فکر ہے کہ امریکی انخلا کے بعد افغان طالبان آئی ایس آئی کے کنٹرول میں نہ لوٹ جائیں اور اپنا کام صرف افغانستان تک ہی محدود نہ کر دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورتِ حال میں ملا عمر کے تابع ٹی ٹی پی کا کام بھی متاثر ہو سکتا ہے اس لیے ایک طاقتور گروپ کا موجود ہونا ضروری ہے جو پاکستان میں خلا پر کر سکے۔
جماعت الحرار کے عزائم
جماعت الاحرار کے اعلان کردہ ایجنڈے میں عالمی خلافت کا قیام، غیر مسلم ممالک میں قید مسلمانوں کی رہائی اور مختلف جہادی تنظیموں کو یکجا کرنا شامل ہیں۔
مستقبل
القاعدہ اور دیگر جہادی تنظیموں سے منسلک بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ’افغانستان سے نیٹو افواج کے انخلا کے بعد پاکستان میں بگڑتی صورتحال کے پیشِ نظر ملک کی عسکری قیادت کم از کم بعض ناراض جہادیوں کے ساتھ تعلقات سدھارنا چاہے گی۔‘
ان کا کہنا ہے کہ بعض ’محدود نظریے‘ والے جہادی ایک مرتبہ پھر آئی ایس آئی کی ’ڈگڈگی‘ بن جائیں گے اور صرف افغانستان اور کشمیر تک اپنا ’جہاد‘ محدود کر دیں گے۔ ان کے مطابق اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے جہاں انھیں دیگر اقدامات کرنے ہیں، وہیں مشرق وسطیٰ میں پھیلتی جہادی تنظیموں کے ساتھ باضابطہ روابط قائم کرنے اور مشترکہ حکمت عملی تیار کرنی ہے۔

،تصویر کا ذریعہHasan Abdullah
کئی کی نظر عراق میں تہلکہ مچاتی دولت الاسلامیہ پر ہے۔ اس وقت جماعت الاحرار اور دولت الاسلامیہ کے کس نوعیت کے تعلقات ہیں اس پر کمانڈر بات کرنے سے گریزاں ہیں۔
نئی تنظیم کے ترجمان احسان اللہ احسان کا کہنا ہے کہ فی الحال وہ زیادہ تفصیل سے اس پر روشنی نہیں ڈال سکتے البتہ ان کی جماعت کی کوشش ہوگی کہ دولت الاسلامیہ والی غلطیاں نہ دہرائی جائیں۔
اِن غلطیوں میں شامل ہے کہ دیگر جہادی تنظیموں سے تکرار سے اجتناب کیا جائے اور ہر قسم کے ’غیر شرعی خون خرابے‘ سے بچا جائے۔
پاکستان میں اینٹی اسٹیبلشمنٹ جہادیوں کے لیے دولت الاسلامیہ کی طرح جماعت الاحرار کے بھی ظاہری مقاصد نہایت واضح ہیں اور مصلحت پسندانہ سیاست سے پاک ہیں۔
اس تناظر میں یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ جماعت الاحرار بہت سے جہادیوں کو اپنی طرف کھینچ لے گی اور عین ممکن ہے کہ عنقریب یہ گروہ دولت الاسلامیہ سے بیعت بھی کر لے۔ بلا شک و شبہ آنے والے دنوں میں پاکستان اور اس خطے میں بیشتر ممالک کو ایک بڑھتے ہوئے جہادی چیلنج کا سامنا رہے گا۔ اہم بات یہ ہے کہ اس مرتبہ لاپروائی اور غلطیوں کی گنجائش کم ہے۔







