تحریکِ انصاف کے بعض رہنما ناراض

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان تحریک انصاف میں منتخب اراکین قومی اسمبلی کا ایک ایسا گروپ ابھر کر سامنے آیا ہے جو غیر منتخب رہنماؤں کے روّیے سے نالاں ہے لیکن جماعت کے ذرائع کے مطابق یہ گروپ نہ تو استعفوں کے خلاف ہے اور نہ ہی پارٹی کے اندر کوئی فارورڈ بلاک بنا ہے۔
تحریک انصاف کے ایک رکن قومی اسمبلی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اسلام آباد میں جاری آزادی مارچ کے دھرنے کے دوران کچھ اراکین اسمبلی کے ساتھ بد سلوکی کی گئی جس سے وہ اراکین ناراض ہوئے ہیں۔
ان ناراض اراکین کی تعداد دس سے 11 تک ہے اور ان میں بیشتر کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا سے ہے جبکہ جن رہنماؤں نے ان کے ساتھ بد تمیزی کی ہے ان کا تعلق صوبہ پنجاب سے بتایا گیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ ان ناراض اراکین نے اس بدسلوکی کے بعد ایک اجلاس منعقد کیا ہے جس میں ان کے خلاف رویے کی مذمت کی گئی جبکہ ان ناراض اراکین نے کور کمیٹی کے کچھ اراکین پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
نام ظاہر نہ کرنے والے رکن قومی اسمبلی نے اسلام آباد سے ٹیلی فون پر بتایا کہ واقعہ کچھ یوں پیش آیا کہ بڑی تعداد میں اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی کے علاوہ صوبائی وزرا دھرنے میں سٹیج یعنی کنٹینر کی چھت پر موجود تھے۔ اس دوران دو رہنماؤں سیف اللہ نیازی اور نعیم الحق نے ان اراکین قومی اسمبلی کو دھکے دیے اور انھیں سٹیج سے اترنے کو کہا جس پر اراکین اسمبلی نے سخت رد عمل کا اظہار کیا۔

،تصویر کا ذریعہPTI
ان اراکین کا تعلق صوبے کے جنوبی اضلاع، ہزارہ ڈویژن اور پشاور سے بتایا گیا ہے جن میں ایک انتہائی اہم خاتون رکن اسمبلی بھی شامل ہیں۔
ان ناراض اراکین کے اجلاس میں ایک قرار داد منظور کی گئی جس میں ان غیر منتخب رہنماؤں کے رویے کی مذمت کی گئی اور جماعت کی کور کمیٹی پر بھی تنقید کی گئی۔ ان اراکین کا موقف کچھ یوں بیان کیا گیا ہے کہ کور کمیٹی میں اراکین کو ذاتی پسند ناپسند کی بنیاد پر منتخب کیا گیا ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ ان اراکین نے کوئی فارورڈ بلاک نہیں بنایا اور ان تمام اراکین نے اپنے استعفے پہلے ہی جمع کرا دیے تھے اس لیے علیحدہ گروپ بنانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
ذرائع ابلاغ میں ایسی خبریں آئی ہیں کہ تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی نے فارورڈ بلاک قائم کر دیا ہے اور اس بلاک کے سربراہ گلزار خان کو مقرر کیا گیا ہے لیکن گلزار خان کے قریبی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ بیمار ہیں اور ان دنوں ان کا علاج ہو رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان تحریک انصاف میں چند ماہ پہلے صوبائی اسمبلی میں بھی کچھ اراکین نے صوبائی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی تھی اور ایک علیحدہ گروپ بنانے کا عندیہ دیا تھا لیکن جماعت کی طرف سے ان کے تمام شکایات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی جس کے بعد کابینہ میں بھی ردو بدل کیا گیا اور بعض اراکین سے وزارتیں واپس لے لی گئی تھیں۔







