بے گھر کرنے کے بجائے ان کی مدد سےآپریشن کیا جائے: جرگہ

فوجی آپریشن ضرب عضب سے شمالی وزیرستان کے کچھ علاقوں سے دس لاکھ سے زیادہ افراد نے نقل مکانی کی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنفوجی آپریشن ضرب عضب سے شمالی وزیرستان کے کچھ علاقوں سے دس لاکھ سے زیادہ افراد نے نقل مکانی کی ہے
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

شمالی وزیرستان کے گرینڈ اتمانزئی جرگے نے حکام سے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان کے عیدک اور دیگر علاقوں میں لوگوں کو بے گھر کرنے کے بجائے ان مقامی افراد کے ذریعے آپریشن کیا جائے۔

شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن ضرب عضب میں حکام کے مطابق میران شاہ اور میر علی کے بیشتر علاقے شدت پسندوں سے صاف کر دیے گئے ہیں۔ تاہم ایسی اطلاعات ہیں کہ عیدک اور اس کے قریبی علاقوں میں بھی اب آپریشن بڑھایا جا سکتا ہے۔

پیر کو بنوں میں گرینڈ اتمانزئی جرگے کے اراکین نے اعلیٰ سول و فوجی حکام سے چھاؤنی میں ملاقات کی جس میں فوجی آپریشن سے متاثرہ افراد کے مسائل اور آپریشن کو دیگر علاقوں تک بڑھانے کے بارے میں بات چیت ہوئی۔

اس جرگے کے اہم رکن پیر عاقل شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ جرگے میں حکام سے کہا گیا ہے کہ عیدک اور دیگر علاقوں میں جہاں سے لوگوں نے نقل مکانی نہیں کی ہے، انھیں بے گھر نہ کیا جائے بلکہ مقامی لوگوں کی مدد سے ان علاقوں میں آپریشن کیا جائے۔

عیدک تحصیل میر علی کے قریب میران شاہ روڈ کے دونوں جانب واقع ہے۔

اطلاعات ہیں کہ حکام کو یہ خدشہ ہے کہ شدت پسند کہیں ان علاقوں میں روپوش نہ ہو گئے ہوں اس لیے ان علاقوں میں آپریشن کیا جا سکتا ہے۔ عیدک کے لوگوں نے فوجی حکام کو تجاویز دی ہیں کہ مقامی لوگ فوج سے ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہیں لیکن انھیں بے گھر نہ کیا جائے۔

اس کے لیے یہ تجویز دی گئی ہے کہ پہلے سڑک کے ایک جانب آپریشن کیا جائے اور لوگوں کو سڑک کی دوسری جانب منتقل کیا جائےاور اسی طرح پھر دوسری جانب بھی آپریشن کیا جا سکتا ہے۔

پیر عاقل شاہ نے بتایا کہ اس جرگے میں فوجی حکام کے علاوہ بنوں کی انتظامیہ کے افسران موجود تھے۔ اجلاس میں حکام سے کہا گیا ہے کہ جن علاقوں میں آپریشن مکمل کر کے شدت پسندوں سے صاف کر دیے گئے ہیں ان علاقوں میں لوگوں کی واپسی کا عمل شروع کیا جائے۔

اتمانزئی جرگے نے متاثرہ افراد کے لیے پشاور، ایبٹ آباد، کرک، لکی مروت اور دیگر علاقوں میں جہاں متاثرین گئے ہیں، وہاں ان کے لیے راشن پوائنٹس قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب پیر ہی کو پاکستان کی فوج کے مطابق فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف کی زیرِ صدارت کور کمانڈر کانفرنس میں شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن کے علاوہ ملک کی مجموعی سکیورٹی صورت حال پر غور کیا گیا۔

راولپنڈی میں واقع فوجی صدر دفاتر میں منعقد ہونے والے اجلاس کے بعد فوج کے محکمہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ اجلاس کے شرکا کو شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب عضب پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کسی بھی قیمت پر شدت پسندوں کو اس علاقے میں واپس آنے اور دوبارہ اکٹھا ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ہی انھیں ملک کے کس دوسرے حصے میں ایسا کرنے کا موقع دیا جائے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ فوجی سربراہ نے شمالی وزیرستان میں حاصل کی گئی فوجی کامیابیوں کو مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

’فوجی سربراہ نے امید ظاہر کی آپریشن ضرب عضب میں حاصل کی گئی کامیابیوں کو انسداد دہشت گردی کی دور رس پالیسیوں کے ذریعے طویل عرصے تک قائم رکھنے کا بندوبست کیا جائے گا اور اس مقصد کے لیے دیگر فریق اپنا کردار ادا کریں گے۔‘