وزیرستان کے متاثرین سندھ نہ آئیں: سندھی قوم پرست

سندھ بچاؤ کمیٹی کے کنوینر جلال محمود شاہ نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ 22 جولائی کو سندھ میں داخل ہونے والی سڑکوں کو بھی دھرنا دے کر بند کیا جائے گا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسندھ بچاؤ کمیٹی کے کنوینر جلال محمود شاہ نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ 22 جولائی کو سندھ میں داخل ہونے والی سڑکوں کو بھی دھرنا دے کر بند کیا جائے گا
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام،کراچی

پاکستان کے صوبہ سندھ کی قوم پرست جماعتوں نے شمالی وزیرستان کے آپریشن کے متاثرین کی صوبے میں آمد کے خلاف 22 جولائی کو عام ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

اس سے پہلے بھی ان جماعتوں کی جانب سے سندھ بھر میں احتجاجی مظاہرے کیےگئے ہیں۔

کراچی میں سنیچر کو جئے سندھ تحریک کے بانی جی ایم سید کی رہائش گاہ پر سندھ بچاؤ کمیٹی کے اجلاس میں اس ہڑتال کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں دستور پاکستان کی شق 15،18 اور 25 کو بھی خارج کرنے کا مطالبہ کیاگیا۔ یہ شقیں پاکستان کے تمام شہریوں کو پورے ملک میں آزادانہ نقل و حرکت کی ضمانت دیتی ہیں۔

سندھ بچاؤ کمیٹی کے کنوینر جلال محمود شاہ نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ 22 جولائی کو سندھ میں داخل ہونے والی سڑکوں کو بھی دھرنا دے کر بند کیا جائے گا۔

قوم پرستوں کا کہنا ہے کہ وہ شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کی بھرپور حمایت کرتے ہیں اور انھیں متاثرین سے بھی ہمدردی ہیں تاہم متاثرین کی سندھ میں آمد کا خیرمقدم نہیں کیا جائے گا، ان کا خیبر پختون خوا میں ہی انتظام کیا جائے۔

قوم پرست جماعتوں کا موقف ہے کہ پاکستان کے دیگر صوبوں سے لوگوں کی مسلسل سندھ اور خاص طور پر کراچی شہر میں آمد سے یہاں کی ڈیموگرافی تبدیل ہو رہی ہے اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو سندھی اقلیت میں تبدیل ہوجائیں گے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ کا کہنا ہے کہ سندھی قوم پرستوں کو سمجھداری سے کام لینا چاہیے، آپریشن متاثرین صورتحال بہتر ہونے کے بعد واپس اپنے گھروں کو چلے جائیں گے۔

کراچی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا:’متاثرین سرد علاقوں کے رہائشی ہیں، مجبوری میں گرم علاقے میں گئے ہیں، ان کی معلومات کے مطابق کوئی بھی خاندان کراچی نہیں آیا ہے، ہوسکتا ہے کہ کوئی انفرادی طور پر ملازمت کی تلاش میں یہاں آیا ہو، لیکن متاثرین اور دہشت گردوں میں فرق کرنا چاہیے۔‘

جلال محمود شاہ کا نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ افغانستان، سوات اور جنوبی وزیرستان آپریشن کی طرح شمالی وزیرستان کے متاثرین بھی سندھ آ کر مسقتل سکونت اختیار کرلیں گے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنجلال محمود شاہ کا نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ افغانستان، سوات اور جنوبی وزیرستان آپریشن کی طرح شمالی وزیرستان کے متاثرین بھی سندھ آ کر مسقتل سکونت اختیار کرلیں گے

جلال محمود شاہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ افغانستان، سوات اور جنوبی وزیرستان آپریشن کی طرح شمالی وزیرستان کے متاثرین بھی سندھ آ کر مستقل سکونت اختیار کرلیں گے، جس سے یہاں کے وسائل اور انفراسٹرکچر پر دباؤ کے علاوہ مقامی آبادی کے اقلیت میں تبدیل ہونے کے امکانات بڑہ جائیں گے۔

سندھ بچاؤ کمیٹی نے وزیر اعظم میاں نواز شریف کو ایک خط تحریر کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آئینی اور اخلاقی طور پر یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ صوبے سندھ کے حقوق کا تحفظ کریں اور متاثرین کے حوالے سے سندھ کے لوگوں کے خدشات اور تحفظات کو دور کریں۔

اقوام متحدہ کے پناہ گزین کے بارے میں ادارے یو این سی ایچ آر کے ڈائریکٹر کو بھی خط تحریر کیا گیا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے ضوابط کے مطابق آئی ڈی پیز کی رہائش کا قریبی علاقوں میں انتظام کیا جاتا ہے اس لیے انھیں امید تھی کہ وفاقی حکومت آپریشن کے متاثرین کے لیے بنوں، ڈی آئی خان اور دیگر شہروں میں قیام کا انتظام کرے گی تاکہ متاثرین کو ذہنی اور مالی دباؤ سے بچایا جاسکے۔