جنرل راحیل کو کھلا خط لکھنے کا فیصلہ موخر

ایک چھ رکنی کمیٹی کے قیام کا بھی فیصلہ کیا گیا جس میں آپریشن کرنے والے اداروں کے تین حکام اور ایم کیوایم کے تین اراکین شامل ہوں گے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنایک چھ رکنی کمیٹی کے قیام کا بھی فیصلہ کیا گیا جس میں آپریشن کرنے والے اداروں کے تین حکام اور ایم کیوایم کے تین اراکین شامل ہوں گے

متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین اور کور کمانڈر کراچی لیفٹننٹ جنرل سجاد غنی کے درمیان جمعہ کی شام ٹیلی فون پر رابطہ ہوا جس کے بعد الطاف حسین نے فوج کے سربراہ کو خط لکھنے کا فیصلہ موخر کردیا ہے۔

ایم کیو ایم کے اعلامیے کے مطابق کورکمانڈر کراچی نے الطاف حسین کو یقین دلایا کہ کراچی میں جاری آپریشن کو غیرجانبدار بنانے کے لیے ہرممکنہ قدم اٹھایا جائے گا اور اس حوالے سے تمام شکایات کی تحقیقات کی جائیں گی۔

ایم کیو ایم کے مطابق اس گفتگو کے دوران ایک چھ رکنی کمیٹی کے قیام کا بھی فیصلہ کیا گیا جس میں آپریشن کرنے والے اداروں کے تین حکام اور ایم کیوایم کے تین اراکین شامل ہوں گے۔

اعلامیے کے مطابق یہ کمیٹی تمام تر شکایات کا جائزہ لے کر ان کی تحقیق کرے گی اور جو لوگ بھی قانون کی خلاف ورزی میں ملوث ہوں گے ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

واضح رہے کہ الطاف حسین نے جنرل راحیل شریف کو کراچی آپریشن کے حوالے سے کھلا خط لکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس سے پہلے میڈیا کو ایک اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ کراچی میں آپریشن میں رینجرز کے ہاتھوں لسانی بنیاد پر اردو بولنے والے معصوم کارکنوں کا بلاجواز قتل، اغواء، تشدد، ماورائے عدالت قتل اور گرفتاریاں ہورہی ہیں اس کے بارے میں وہ جنرل راحیل شریف صاحب کے نام ایک کھلا خط تحریر کررہے ہیں۔