کارکنوں کا جارحانہ رویہ اور پولیس کا دفاع

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہل کاروں اور پاکستان عوامی تحریک اور منہاج القرآن کے کارکنوں کے درمیان گذشتہ 24 گھنٹوں سے جاری آنکھ مچولی بالآخر ختم ہو گئی ہے۔
حکومت کی طرف سے ڈاکٹر طاہرالقادری کے طیارے کا رخ لاہور کی جانب موڑنے اور مظاہرین کے منتشر ہونے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے اسلام آباد اور راولپنڈی کے مختلف مقامات پر لگائی جانے والی رکاوٹوں کو ہٹانا شروع کر دیا ہے۔
اس آنکھ مچولی میں پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری کے اسلام آباد ایئرپورٹ پر استقبال کے لیے آنے والے افراد اور امن وامان کی صورت حال کو کنٹرول کرنے کے ذمہ دار بالخصوص پولیس اہلکاروں کے رویے میں واضح فرق نظر آ رہا تھا۔
اتوار کی شب اور پیر کے روز طاہرالقادری کی اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر متوقع آمد کے موقعے پر کسی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے راولپنڈی اور اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں دس ہزار سے زائد پولیس اہل کاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔
فیض آباد، کرال چوک، پیرودھائی اور اسلام آباد کے بےنظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پاکستان عوامی تحریک اور منہاج القرآن کے کارکنوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ ان جھڑپوں میں جو واضح فرق دیکھنے کو ملا جس میں جڑواں شہروں اور بالخصوص پنجاب پولیس نے دفاعی حکمت عملی اختیار کر رکھی تھی جبکہ پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کا رویہ جارحانہ تھا۔
پاکستان عوامی تحریک اور منہاج القرآن کے کارکنوں کی اکثریت نے گلے میں بیگ ڈالے ہوئے تھے جن میں پانی، نمک، گڑ اور کپڑے کے ایک ٹکڑے کے ساتھ خاص گول پتھر بھی موجود تھے۔
اس کے علاوہ جب بھی پولیس اہل کار مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے پھینکتے تو مظاہرین وہی گولے دوبارہ پولیس اہل کاروں پر پھینک دیتے تھے جس سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ مظاہرین نے اس کی تربیت حاصل کر رکھی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مظاہرین کے ہاتھوں میں ڈنڈے بھی تھے جو اُنھوں نے مختلف گاڑیوں میں چھپا کر رکھے تھے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
شیلنگ کے دوران بعض علاقوں میں ہوا کا رخ مخالف سمت میں ہونے کی وجہ سے پولیس اہل کار خود بھی آنسو گیس کے گولوں سے متاثر ہوئے۔ اس کے علاوہ راولپنڈی کے مختلف علاقوں میں متعدد عام شہری بھی آنسو گیس سے متاثر بھی ہوئے۔
فیض آباد، ڈھوک کالا خان، کرال چوک اور پھر اسلام آباد ایئرپورٹ پر پولیس اہل کاروں نے جب مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے آنسو گیس اور ربڑ کی گولیاں چلائیں تو مظاہرین نے اُن پر اتنا زیادہ پتھراؤ کیا کہ پولیس اہل کار پیچھے ہٹنے اور ان میں سے بعض بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔ ایسا لگتا تھا کہ پولیس ملزم ہے اور مظاہرین پولیس والے۔
مظاہرین نے اسی پر ہی بس نہیں کیا بلکہ پولیس کی گاڑیوں پر قبضہ کرنے کے ساتھ ساتھ اور اُن میں موجود پولیس اہل کاروں کو بھی یرغمال بنا لیا تاہم پولیس نے حکمت عملی کے تحت ان سے اپنے ساتھی چھڑا لیے۔

،تصویر کا ذریعہAP
لاہور ماڈل ٹاؤن میں منہاج القرآن کے باہر تجاوزات ہٹانے کے واقعے میں آٹھ افراد کی ہلاکتوں کے بعد پنجاب پولیس نے دفاعی رویہ اختیار کر رکھا ہے۔
اس کے علاوہ اتوار کی شب سکیورٹی سے متعلق ہونے والے خصوصی اجلاس میں پولیس اہل کاروں کو سختی سے منع کر دیا گیا کہ جیسے بھی حالات ہوں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے گولی نہیں چلائی جائے گی۔
اب تک سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مظاہرین کے ہاتھوں ایک سو سے زائد پولیس ملازمین زخمی ہوئے ہیں جن میں سے کچھ کی حالت تشویش ناک ہے۔ مظاہرین کے پتھراؤ سے زخمی ہونے والے پولیس اہل کار رشید خان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں لوگ فوج سے اس لیے ڈرتے ہیں کیونکہ وہ گولی مارتی ہے، اس لیے اگر پولیس کے پاس بھی یہ اختیار ہوتا تو پولیس اہل کاروں پر تشدد نہ ہوتا۔‘
پاکستان عوامی تحریک کے نمائندے رفیق عباسی کے مطابق پولیس کی جھڑپوں میں اب تک ڈیڑھ سو سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ اتنی ہی تعداد میں لوگ گرفتار ہیں۔ پولیس نے سرکاری املاک کی توڑ پھوڑ اور کارِ سرکار میں مداخلت کے الزام میں متعدد نامعلوم افراد کے خلاف روزنامچے میں رپورٹ تو درج کر لی ہے تاہم ویڈیو فوٹیج ہی سے ملزمان کا تعین ہو سکے گا۔
اسلام آباد اور راولپنڈی کی طرف آنے اور جانے والے تمام راستے سیل ہونے کی وجہ سے سرکاری دفاتر میں حاضری نہ ہونے کے برابر تھی۔







