آپریشن ضرب عضب، 23 شدت پسند ہلاک

فوجی حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے شمالی وزیرستان کو مکمل طور پر گھیرے میں لے رکھا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنفوجی حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے شمالی وزیرستان کو مکمل طور پر گھیرے میں لے رکھا ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں ضربِ عضب کے نام سے شروع کی جانے والی فوجی کارروائی کے پانچویں روز جمعرات کو فوج نے علاقے میں 23 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

اس فوجی کارروائی میں تاحال بڑے پیمانے پر زمینی حملہ شروع نہیں کیا گیا، اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو زیادہ تر جیٹ طیاروں اور گن شپ ہیلی کاپٹروں سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اس پس منظر میں پاکستان فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے پاک فضائیہ کے سربراہ طاہر رفیق بٹ سے اسلام آباد میں ملاقات کی ہے۔

فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق آپریشن ضربِ عضب کے دوران فوج کے کوبرا ہیلی کاپٹروں نے رات گئے میران شاہ کے مشرق میں واقع زراتا تنگی کی پہاڑیوں پر شدت پسندوں کے مواصلاتی مراکز کو نشانہ بنایا جس میں 15 شدت پسند ہلاک ہو گئے۔

آئی ایس پی آر کے تحریری بیان میں بتایا گیا ہے کہ میران شاہ میر علی روڈ پر بارودی سرنگ بچھانے میں مصروف آٹھ ازبک شدت پسندوں کو بھی ہلاک کر دیا گیا۔

فوج کو اس کارروائی میں بھرپور فضائی امداد حاصل ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنفوج کو اس کارروائی میں بھرپور فضائی امداد حاصل ہے

دوسری جانب آج آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے اسلام آباد میں فضائیہ کے ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا اور فضائیہ کے سربراہ ایئرمارشل طاہر رفیق بٹ سے ملاقات میں آپریشن ضربِ عضب اور دیگر دو طرفہ امور پر بات چیت کی۔

فوجی حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے شمالی وزیرستان کو مکمل طور پر گھیرے میں لے رکھا ہے جبکہ آج میران شاہ اور غلام خان سے مقامی آبادی کی نقلِ مکانی کا آغاز ہو گیا ہے۔

مختلف چیک پوائٹنس قائم کیے گئے ہیں جہاں پناہ گزینوں کو سکیورٹی فورسز کی جانب سے خوراک اور ادویات فراہم کی جا رہی ہیں۔

متاثرہ علاقوں سے لوگوں نے بڑے پیمانے پر بنوں کی جانب نقلِ مکانی شروع کر دی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمتاثرہ علاقوں سے لوگوں نے بڑے پیمانے پر بنوں کی جانب نقلِ مکانی شروع کر دی ہے

بیان میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بنوں میں متاثرین کے لیے کیمپ قائم کر دیا گیا ہے جبکہ متاثرین کی رجسٹریشن کے لیے سیدگئی پوسٹ پر موجود رجسٹریشن پوائنٹس کی تعداد بڑھا کر 20 کر دی گئی ہے۔

پاکستان کی فوج نے شمالی وزیرستان میں 15 جون کو آپریشن ضربِ عضب کا آغاز کیا تھا جس میں فوجی حکام کے دعوے کے مطابق ہلاک ہونے والے شدت پسندوں میں ملکی اور غیر ملکی شدت پسندوں کی تعداد 200 سے زائد ہو چکی ہے اور ان کے اہم مراکز پر بھی حملے کیے جا رہے ہیں۔

اگرچہ امریکہ نے پاکستان کی جانب سے شمالی وزیرستان آپریشن کی حمایت کی ہے تاہم پاکستان کے دفترِ خارجہ نے شمالی وزیرستان میں امریکہ کی جانب سے ایک بار پھر ڈرون حملے کرنے پر ایک بار پھر احتجاجی بیان جاری کیا ہے۔