وزیرستان چھوڑنے پر مجبور : تصاویر

بچے بھی بےگھر، عورتیں بھی فوجی کارروائی جاری

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان سے نکلنے والے ہزاروں خاندان بنوں اور صوبے کے دوسرے علاقوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان سے نکلنے والے ہزاروں خاندان بنوں اور صوبے کے دوسرے علاقوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
شمالی وزیرستان میں یہ فوجی کارروائی اس علاقے کو ملکی اور غیر ملکی دہشت گردوں کے نرغے سے نجات دلانے کے لیے گذشتہ اتوار کو شروع کی گئی۔
،تصویر کا کیپشنشمالی وزیرستان میں یہ فوجی کارروائی اس علاقے کو ملکی اور غیر ملکی دہشت گردوں کے نرغے سے نجات دلانے کے لیے گذشتہ اتوار کو شروع کی گئی۔
پاکستان میں کئی حلقے سیاسی قیادت کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں کہ فوجی کارروائی سے قبل بے گھر ہونے والے افراد کے لیے مناسب بندوبست نہیں کیا گیا۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان میں کئی حلقے سیاسی قیادت کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں کہ فوجی کارروائی سے قبل بے گھر ہونے والے افراد کے لیے مناسب بندوبست نہیں کیا گیا۔
ان بے گھر ہونے والے افراد میں بڑی تعداد میں عورتیں، بچے اور عمر رسیدہ لوگ شامل ہیں جو اپنے طور پر عارضی پناہ گاہیں تلاش کر رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنان بے گھر ہونے والے افراد میں بڑی تعداد میں عورتیں، بچے اور عمر رسیدہ لوگ شامل ہیں جو اپنے طور پر عارضی پناہ گاہیں تلاش کر رہے ہیں۔
فوج نے یہ آپریشن نواز شریف کی حکومت کی طرف سے شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی کے بعد شمالی وزیرستان میں شروع کیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنفوج نے یہ آپریشن نواز شریف کی حکومت کی طرف سے شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی کے بعد شمالی وزیرستان میں شروع کیا ہے۔
شمالی ویزرستان سے بے گھر ہونے والے افراد کے لیے پناہ گزین کیمپ قائم کرنے اور ان کو خوراک اور طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے حکومت کو بھاری مالی وسائل درکار ہیں۔
،تصویر کا کیپشنشمالی ویزرستان سے بے گھر ہونے والے افراد کے لیے پناہ گزین کیمپ قائم کرنے اور ان کو خوراک اور طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے حکومت کو بھاری مالی وسائل درکار ہیں۔
وزیرستان سے نکلنے والے افراد کی رجسٹریشن کا کام بھی کیا جا رہا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی شدت پسند شہریوں کی آڑ میں علاقے سے نکلنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔
،تصویر کا کیپشنوزیرستان سے نکلنے والے افراد کی رجسٹریشن کا کام بھی کیا جا رہا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی شدت پسند شہریوں کی آڑ میں علاقے سے نکلنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔