طالبان: فوجی کارروائی کے لیے سیاسی جماعتوں سے رابطے

طالبان

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنطالبان نے کراچی کے ہوائی اڈے پر گذشتہ دنوں کیے جانے والے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی
    • مصنف, آصف فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

وفاقی حکومت نے طالبان شدت پسندوں سے مذاکرات کے ذریعے امن میں ناکامی کے بعد فوجی کارروائی سمیت دیگر تجاویز پر سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

اس سلسلے میں وزیراعظم کی قائم کردہ تین رکنی کمیٹی نے ملک کی تمام چھوٹی بڑی سیاسی جماعتوں سے رابطے کیے ہیں۔

وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق، منصوبہ بندی کے وزیر احسن اقبال اور قومی امور پر وزیر اعظم کے خصوصی معاون عرفان صدیقی پر مشتمل اس کمیٹی نے اب تک عوامی نیشنل پارٹی، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام (ف) اور قومی وطن پارٹی (شیرپاؤ) کے ساتھ ملاقاتیں کی ہیں۔

اس طرح کی ایک ملاقات میں موجود عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر زاہد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی جماعت کا پہلے دن ہی سے موقف تھا کہ تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کے ذریعے امن نہیں آ سکتا۔

’اس وقت ان جماعتوں کو ہمارا موقف سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ لیکن اب ملک کی صورتِ حال اور مذاکرات کی کوششوں کا نتیجہ دیکھ کر وہ اس معاملے کو سمجھنا شروع ہوئے ہیں۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ سرکاری کمیٹی سے ملاقات کے بعد کیا انھیں تاثر ملا کہ حکومت بھی اب ان کے اس موقف کے قریب آ رہی ہے؟ تو زاہد خان نے کہا: ’وفاقی حکومت کی حد تک تو میں کہہ سکتا ہوں کہ وہ اب یہ سمجھ گئے ہیں کہ مذاکرات اس مسئلے کا حل نہیں ہے۔‘

سرکاری کمیٹی کے ارکان ان ملاقاتوں میں ہونے والی گفتگو کے بارے میں کچھ کہنے سے گریز کر رہے ہیں۔ کمیٹی کے رکن عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ حکومت جمہوری روایات کے پیش نظر ملک کی سیاسی جماعتوں سے ’اہم قومی امور‘ پر تبادلۂ خیال کر رہی ہے۔

’جہاں تک طالبان سے مذاکرات کا سوال ہے تو یہ مذاکرات نہ ہو رہے ہیں اور نہ ہی موجودہ صورتحال میں ان کے ہونے کے امکانات دکھائی دے رہے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ حکومت کا پہلے دن سے موقف رہا ہے کہ تشدد اور مذاکرات ایک ساتھ نہیں چل سکتے اور طالبان نے تشدد کا راستہ اختیار کر رکھا ہے۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ حکومت شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کے خاتمے اور فوجی کارروائی کے آغاز کا باقاعدہ اعلان کب کرے گی، اور کرے گی بھی یا نہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی کے زاہد خان کا کہنا تھا کہ کُل جماعتی کانفرنس کے موضوع پر سرکاری کمیٹی سے بات چیت ہوئی تھی۔

’انھوں نے ہم سے کہا کہ وہ اس موضوع پر باقی جماعتوں سے بھی بات کریں گے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت دوسرے مرحلے میں تمام سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کر کے اعتماد میں لینے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔‘

کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے ابھی تک حکومت کے ساتھ مذاکرات ختم کرنے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے۔ تنظیم کے ترجمان کے مطابق وہ جنگ بندی تو ختم کر چکے ہیں لیکن حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے اب بھی تیار ہیں۔