پاکستان: شمالی وزیرستان میں ڈرون حملوں کی مذمت

ذرائع کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں حقانی نیٹ ورک کے لوگ شامل ہیں تاہم کوئی اہم کمانڈر شامل نہیں ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنذرائع کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں حقانی نیٹ ورک کے لوگ شامل ہیں تاہم کوئی اہم کمانڈر شامل نہیں ہیں
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے دفتر خارجہ نے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان ایجنسی میں ہونے والے دو الگ الگ ڈرون حملوں کی مذمت کی ہے جن میں کم سے کم 14 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

مقامی لوگوں کے مطابق امریکی جاسوس طیاروں نے بدھ کی رات دو علیحدہ علیحدہ حملوں میں آٹھ میزائل داغے ہیں۔

پاکستان میں ڈرون حملے کوئی چھ ماہ کے وقفے کے بعد کیے گئے ہیں۔

مقامی لوگوں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بدھ کی رات ساڑھے آٹھ بجے کے قریب ڈرون طیاروں نے میران شاہ سے کوئی پانچ کلومیٹر دور مغرب میں تبئی کے مقام پر دو میزائل داغے جس میں ایک چھوٹے ٹرک اور ایک مکان کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس حملے میں چار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

مقامی لوگوں کے مطابق اس کے بعد رات ڈھائی اور تین بجے کے درمیان امریکی جاسوس طیاروں نے ایک مرتبہ پھر اسی علاقے میں حملے کیے یہ حملے وقفے سے کیے گئے جہاں پہلے ایک گاڑی اور اس کے بعد درگہ منڈی کے مقام پر ایک دوسرے مکان کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے۔

اس حملے کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے مختلف ذرائع سے رابطہ کیا گیا۔

کچھ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں کل نو افراد ہلاک اور چھ زخمی ہوئے ہیں جن میں حقانی نیٹ ورک کے لوگ شامل ہیں تاہم کوئی اہم کمانڈر شامل نہیں ہے۔

ماضی میں پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے جاتے رہے ہیں اور آخری ڈرون حملے 26 دسمبر سن 2013 میں کیے گئے تھے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنماضی میں پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے جاتے رہے ہیں اور آخری ڈرون حملے 26 دسمبر سن 2013 میں کیے گئے تھے

مقامی لوگوں نے بتایا کہ ڈرون طیاروں کی آمد سے علاقے میں خوف تھا اور ایک حملے میں آگ کے شعلے اٹھتے دکھائی دیے۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ جس گاڑی کو نشانہ بنایا گیا ہے اس میں بارودی مواد رکھا تھا لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ ہلاک ہونے والے افراد میں ازبک اور حقانی نیٹ ورک کے شدت پسند شامل ہیں۔

پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے ڈرون حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ معلوم نہیں ہے کہ اس میں کتنا نقصان ہوا ہے اور ہلاک ہونے والے افراد کون ہیں۔

اس بارے میں پولیٹکل ایجنٹ، اسسٹسنٹ پولیٹکل ایجنٹ اور تحصیلدار سے رابطے کی با رہا کوشش کی گئی لیکن ان کی ٹیلی فون نمبرز بند تھے۔

پاکستان میں اس سال یہ پہلے ڈرون حملے ہیں جو لگ بھگ چھ ماہ کے وقفے کے بعد کیے گئے۔ آخری ڈرون حملے 26 دسمبر سن 2013 میں کیے گئے تھے۔

امریکی جاسوس طیاروں کے حملوں کے خلاف تحریک انصاف نے پشاور اور صوبے کے دیگر علاقے میں دھرنے دیے تھے اور افغانستان میں نیٹو افواج کو سامان کی ترسیل کرنے والے ٹینکرز اور کنٹینرز روک دیے تھے۔