’پرویز مشرف 12 جون کو عدالت میں پیش ہوں‘

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے لال مسجد کے سابق نائب خطیب عبدالرشید غازی کے مقدمۂ قتل میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست رد کرتے ہوئے اُنھیں 12 جون کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
ملزم پرویز مشرف اس مقدمے میں ضمانت پر ہیں جبکہ عدالت نے اس مقدمے میں اُن کے دو ضامنوں کو بھی آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
عدالت کا کہنا ہے کہ ملزم کے پیش نہ ہونے کی صورت میں اُن کی ضمانت منسوخ کی جا سکتی ہے۔
جمعرات کو اسلام آباد کے ایڈشنل سیشن جج واجد علی کی عدالت میں غازی عبدالرشید قتل کے مقدمے کی سماعت ہوئی تو ملزم پرویز مشرف کے وکیل اختر شاہ نے عدالت کو بتایا کہ اُن کے موکل کی جان کو خطرہ ہے اور وہ ڈاکٹروں کے پاس زیر علاج ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ جب تک سکیورٹی کے مناسب اقدامات نہیں کیے جاتے اور ڈاکٹر اُنھیں سفر کرنے کی اجازت نہیں دیتے، اُس وقت تک اُن کے موکل عدالت میں پیش نہیں ہوسکتے۔
اس مقدمے میں سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ ملزم اس مقدمے میں ایک بار بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔
اُنھوں نے کہا کہ فوجداری مقدمے میں اگر پرویز مشرف کو عدالت میں حاضری سے استثنیٰ دیا جاتا ہے تو پھر دوسرے ملزمان کو بھی یہ مراعات دی جائیں کیونکہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں۔
غداری کا مقدمہ
دوسری طرف سابق فوجی صدر کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے اس مقدمے کے وکیل استغاثہ سے کہا ہے کہ وہ تفتیش کا تمام ریکارڈ ملزم کے وکلا کو دیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تو پرویز مشرف کی وکلا کی ٹیم میں شامل شوکت حیات نے عدالت کو بتایا کہ اُنھیں جو تفتیش کا ریکارڈ فراہم کیا گیا اُس میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو دفاع کے لیے کام آ سکے۔
اُنھوں نے کہا کہ اس مقدمے میں 25 افراد کے بیانات قلمبند کیے گئے تھے تاہم ان کے حوالے کیے گئے ریکارڈ میں 24 گواہوں کے نامکمل بیانات لف کیے گئے ہیں۔
اس پر عدالت کا کہنا تھا کہ اس مقدمے کا تمام ریکارڈ ملزم کے وکلا کو دیا جائے۔
جمعرات کو ہونے والی اس مقدمے کی سماعت کے دوران سیکریٹری داخلہ شاہد خان عدالت میں پیش ہوئے تاہم اُن کا بیان قلمبند نہیں کیا جا سکا۔
پرویز مشرف کے وکلا نے خصوصی عدالت میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ تین نومبر 2007 کو ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد قومی اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی کا ریکارڈ فراہم کیا جائے ۔
قومی اسمبلی نے ایک قرارداد کے ذریعے تین نومبر کے ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کی تھی۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک اراکین کی فہرست بھی فراہم کی جائے اور یکم نومبر 2007 سے لے کر تین نومبر 2007 تک جو افراد اُس وقت کے صدر پرویز مشرف سے ملے، اُن کا ریکارڈ بھی فراہم کیا جائے۔







