یوٹیوب کھول دی جائے، قومی اسمبلی میں متفقہ قرارداد منظور

پاکستان میں یو ٹیوب پر 2010 میں پابندی لگائی گئی تھی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپاکستان میں یو ٹیوب پر 2010 میں پابندی لگائی گئی تھی

پاکستان کی قومی اسمبلی نے ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ یوٹیوب پر سے پابندی ختم کرنے کے لیے قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی ہے۔

واضح رہے کہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے یوٹیوب پر ستمبر 2012 میں پابندی لگا دی گئی تھی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی ممبر قومی اسمبلی شازیہ مری نے منگل کو اسمبلی میں ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ یوٹیوب پر سے پابندی اٹھانے کی قرارداد پیش کی۔

اس موقع پر انھوں نے کہا کہ دنیا بھر کے مسلم ممالک میں یوٹیوب پر سے پابندی ختم کر دی گئی ہے۔

شازیہ مری نے کہا کہ یہ وقت لوگوں کو جدید ٹیکنالوجی سے جوڑنے کا ہے اس لیے حکومت پابندی ہٹا دے کیونکہ پاکستان میں پراکسی کے ذریعے یوٹیوب تک رسائی ممکن ہے۔

شازیہ مری کی قرارداد پر وزیر مملکت سائرہ افضل تارڑ نے کہا کہ حکومت بھی یوٹیوب پر پابندی کے حق میں نہیں ہے لیکن یہ معاملہ اس وقت عدالت میں ہے اور اس حوالے سے اب تک کوئی فیصلہ نہیں آیا۔

اس کے بعد ارکانِ اسمبلی نے یو ٹیوب پر پابندی ختم کرنے کے لیے قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی۔

اس سے قبل پاکستان کے ایوانِ بالا کی کمیٹی برائے انسانی حقوق بھی یوٹیوب پر عائد پابندی ہٹانے سے متعلق قرارداد متفقہ طور پر منظور کر چکی ہے۔

شازیہ مری نے کہا کہ دنیا بھر کے مسلم ممالک میں یوٹیوب پر سے پابندی ختم کر دی گئی ہے
،تصویر کا کیپشنشازیہ مری نے کہا کہ دنیا بھر کے مسلم ممالک میں یوٹیوب پر سے پابندی ختم کر دی گئی ہے

یاد رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں ہی پیغمبرِ اسلام کے بارے میں بنائی گئی توہین آمیز فلم یوٹیوب پر جاری ہونے کے بعد اس ویب سائٹ پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

سال 2012 میں جاری ہونے والی’انوسنس آف اسلام‘ یا ’اسلام کی معصومیت‘ نامی فلم کے خلاف پاکستان سمیت مختلف ممالک میں پرتشدد احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے۔ تشدد کے ان واقعات میں پاکستان میں 19 افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ ملک کے مختلف شہروں میں نجی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔

اسی دوران حکومتِ پاکستان نے یو ٹیوب پر پابندی لگا دی تھی جو تاحال برقرار ہے۔

رواں سال فروری میں امریکہ کی ایک اپیل کورٹ کی جانب سے گوگل کو توہین آمیز فلم کو اپنی ویڈیو شیئرنگ کی ویب سائٹ یوٹیوب سے ہٹانے کا حکم دینے کے بعد اب پاکستان میں اس ویب سائٹ کو کھولنے کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔

پاکستان میں انٹرنیٹ کے استعمال کی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی جانب یوٹیوب پر عائد پابندی کے خلاف لاہور میں تین جبکہ پشاور اور سندھ ہائی کورٹ میں ایک ایک درخواست زیرِسماعت ہے۔