حامد میر نے کمیشن کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کروا دیا

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
سینیئر صحافی حامد میر پر قاتلانہ حملے کی تفتیش کرنے والے سپریم کورٹ کے تین رکنی کمیشن نے جمعے کی صبح حامد میر کا بیان ریکارڈ کر لیا ہے۔ کراچی میں زیر علاج حامد میر کو بلٹ پروف گاڑی میں غیر معمولی حفاظتی انتظامات میں سپریم کورٹ پہنچایا گیا۔
زخمی حامد میر نے جسٹس مشیر انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کے روبرو بند کمرے میں اپنا بیان قلمبند کرایا۔
اس سے پہلے حامد میر کے بھائی عامر میر، آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی اور ڈائریکٹر رینجرز سمیت مختلف اہلکار اپنا بیان قلمبند کروا چکے ہیں۔
جیو نیوز سے منسلک سینئر صحافی حامد میر 19 اپریل کو کراچی ایئرپورٹ سے آئی آئی چندریگر روڈ پر اپنے دفتر جا رہے تھے کہ ان پر قاتلانہ حملہ کیا گیا، جس میں وہ شدید زخمی ہوگئے۔
وزیر اعظم نواز شریف کی درخواست پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تصدیق حسین جیلانی نے جسٹس انور ظہیر جمالی، جسٹس اعجاز خان اور جسٹس اقبال حمید الرحمان پر مشتمل کمیشن قائم کیا تھا، جس نے ڈی جی رینجرز، آئی جی سندھ پولیس اور جوائنٹ ڈائریکٹر انٹیلی جنس بیورو کو نوٹس جاری کیے جبکہ عام شہریوں کے لیے اخبارات میں تشہیر کی گئی تھی۔
کمیشن میں حکام اور مدعی نے کیا بیانات قلمبند کرائے؟ بند کمرے میں سماعت کی وجہ سے یہ معلومات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔
اس سے پہلے حامد میر پر قاتلانہ حملے کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف دائر کیا گیا تھا۔ انسپکٹر شہادت حسین کی مدعیت میں دائر مقدمے میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سنیچر کے روز سینیئر صحافی حامد میر کراچی ایئرپورٹ سے اپنے دفتر جا رہے تھے کہ ان پر قتل کے ارادے سے نامعلوم افراد نے فائرنگ کی، جس سے لوگوں میں دہشت پھیل گئی۔
مدعی نے بتایا ہے کہ حامد میر کی طبعیت تاحال ناساز ہے اس لیے سرکار کی مدعیت میں یہ مقدمہ درج کیا جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دو نامعلوم ملزمان کے خلاف دائر مقدمے میں قتل کی نیت سے فائرنگ کرنے اور عوام میں دہشت پھیلانے کے علاوہ متنازع تحفظِ پاکستان آرڈیننس کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔
مقدمے کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تفتیشی ٹیم بھی تشکیل دی گئی ہے۔ جنگ گروپ کے مطابق ٹیم میں آئی ایس آئی کی شمولیت کی وجہ سے حامد میر نے اپنا بیان قلمبند کرانے سے انکار کر دیا تھا۔







