’لاپتہ شخص فورسز کے حراستی مرکز میں‘

صوبہ خیبر پختونخوا میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ سال 2008-2009 میں شروع ہوا تھا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنصوبہ خیبر پختونخوا میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ سال 2008-2009 میں شروع ہوا تھا
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پشاور ہائی کورٹ نے متعلقہ حکام سے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے زیر انتظام قائم حراستی مرکز میں موجود ایک لاپتہ شخص کی ملاقات اس کے رشتہ داروں سے کرائی جائے۔

ہائی کورٹ نے دیگر لاپتہ افراد کے بارے میں نوٹسز جاری کیے ہیں۔

منگل کو جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس اکرام اللہ پر مشتمل بینچ نے نو لاپتہ افراد کے مقدمے کی سماعت کی۔

سماعت شروع ہوئی تو ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو نورزمان نامی شخص کے بارے میں بتایا کہ وہ مہمند ایجنسی کی تحصیل غلنئی میں قائم حراستی مرکز یا انٹرمنٹ سنٹر میں موجود ہیں۔

عدالت نے اس موقع پر کہا کہ اگر متعلقہ شخص اس انٹرمنٹ سنٹر میں موجود ہے تو اس کی ملاقات اس کے رشتہ داروں کے ساتھ کرائی جائے۔

اطلاعات کے مطابق نور زمان قبائلی علاقے مہمند ایجنسی کا رہائشی ہے اور تین سال پہلے لاپتہ ہو گئے تھے۔

پشاور ہائی کورٹ میں سینکڑوں لاپتہ افراد کے مقدمات کی سماعت جاری ہے۔ لاپتہ افراد میں سے کچھ لوگ واپس گھروں کو پہنچ گئے ہیں جبکہ کچھ افراد ایسے ہیں جو ہلاک ہو چکے ہیں تاہم اس بارے میں کوئی واضح تفصیل موجود نہیں ہے۔

منگل کو سماعت میں عدالت نے متعلقہ حکام سے کہا ہے کہ دیگر لاپتہ افراد کے بارے میں بھی تفصیل اگلی سماعت میں عدالت میں پیش کی جائے۔

صوبہ خیبر پختونخوا میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ سال 2008-2009 میں شروع ہوا تھا جس کے بعد لاپتہ افراد کے رشتہ داروں نے عدالتوں کا رخ کیا تھا۔

خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں شدت پسندی کے خلاف جنگ کے دوران سکیورٹی فورسز کے زیر انتظام کم سے کم سات حراستی مراکز بنائے گئے ہیں جہاں ایسے افراد کو رکھا جاتا ہے جو شدت پسندی میں ملوث رہے ہیں۔

ان افراد کو بہتر شہری بنانے کے لیے انھیں تربیت فراہم کی جاتی ہے اور پھر انھیں رہا کر دیا جاتا ہے۔

یہ انٹرمنٹ سنٹرز 2011 میں قائم کیے گئے تھے جبکہ سابق دور میں اس بارے میں ایک قانون منظور کیا گیا تھا۔