ڈی آئی خان جیل پر حملے کا ماسٹر مائنڈ ہلاک: پولیس حکام

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں پولیس حکام کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان جیل پر حملے کا ایک ماسٹر مائنڈ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا ہے۔
یہ پولیس مقابلہ ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل کلاچی میں روہڑی کے مقام پر ہوا ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان کے قائمقام ضلعی پولیس افسر صادق حسین بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے پاس خفیہ اطلاع تھی کہ کچھ شدت پسند تحصیل کلاچ کے روہڑی کے علاقے میں روپوش ہیں۔
پولیس نے ایلیٹ فورس کے ہمراہ علاقے میں سرچ آپریشن کیا ہے جہاں شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپ میں اہم کمانڈر حکمت اللہ ہلاک ہو گئے۔
پولیس افسر کے مطابق اس کارروائی میں 70 سے زیادہ سکیورٹی اہلکاروں نے حصہ لیا اور جھڑپ میں ایک پولیس اہلکار زخمی بھی ہوا۔ انھوں نے کہا کہ پولیس اہلکار کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے اور ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
ایسی اطلاع بھی ہے کہ شدت پسند اپنے ہی بم کے پھٹنے سے ہلاک ہوا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ شدت پسند کمانڈر ڈیرہ اسمعایل خان جیل پر حملے کا ماسٹر مائنڈ تھا۔
انھوں نے کہا کہ حکمت اللہ کا گروہ اغوا کے کارروائی میں بھی ملوث رہا ہے اور وہ گذشتہ مہینوں میں دو سکھوں کو اغوا کرنے کے بھی ذمے دار تھے۔ ان سکھوں کو بعد میں بازیاب کرا لیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تحصیل کلاچ کے روہڑی کے علاقوں میں کیشدگی پائی جاتی ہے اور یہاں سکیورٹی اہلکاروں پر حملے بھی کیے گیے ہیں اور اس علاقے میں اغوا کی وراداتیں بھی ہوتی رہی ہیں۔
گذتشہ سال جولائی میں جیل پر شدت پسندوں کے حملے میں 240 کے قریب فرار ہو گئے تھے اور حکام کے مطابق حملے میں چھ اہلکاروں سمیت بارہ افراد ہلاک اور 13 زخمی ہوئے۔
کالعدم شدت پسند تنظم تحریک طالبان پاکستان نے سینٹرل جیل پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ سینٹرل جیل پر حملے کے بعد فوراً کارروائی نہ کرنے پر ایلیٹ فورس کے افسران سمیت 27 دوسرے پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا تھا۔







