تاجروں کی ہلاکت پر چار پولیس اہلکاروں کو سزائے موت

پولیس(فائل فوٹو)

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنمحکمہ جاتی تحقیقات میں یہ ثابت ہوا کہ واقعہ مجرمانہ غفلت کا نتیجہ تھا
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

کراچی میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے بلوچستان کے چار تاجروں کی جعلی پولیس مقابلے میں ہلاکت کا جرم ثابت ہونے پر چار پولیس اہلکاروں کو سزائے موت دینے کا حکم دیا ہے۔

تاجروں کی ہلاکت کا واقعہ 30 دسمبر 2008 کی رات کراچی کے فیروز آباد تھانے کی حدود میں خالد بن ولید روڈ پر پیش آیا تھا جب اینٹی کار لفٹنگ سیل کے عملے کی فائرنگ سے چار تاجر طاہر خان، عبید اللہ خان، شائستہ خان اور زین الدین ہلاک ہوگئے تھے۔

ان چاروں افراد کا تعلق بلوچستان کے علاقے چمن سے تھا۔

پولیس نے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ ہلاک ہونے والے چاروں افراد ڈاکو ہیں تاہم بعد میں ہونے والی محکمہ جاتی تحقیقات میں یہ ثابت ہوا کہ واقعہ مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ہے۔

بدھ کو اس مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے انسدادِ دہشت گردی کی مقامی عدالت کے جج نے چار ملزمان، اینٹی کار لفٹنگ سیل کے ایس ایچ او ملک ارشاد حسین اور ان کے چار ماتحتوں کو چار چار مرتبہ سزائے موت دینے کا حکم دیا۔

خیال رہے کہ پولیس نے پہلے تحقیقات کی روشنی میں ان اہلکاروں کے خلاف قتلِ خطا کا مقدمہ درج کیا تھا جس میں جرم ثابت ہونے پر زیادہ سے زیادہ پانچ سال قید ہو سکتی ہے۔

تاہم سپریم کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور جسٹس اعجاز الحسن پر مشتمل دو رکنی بینچ نے واقعے کا ازخود نوٹس لے کر ملوث اہلکاروں کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت قتلِ عمد کا مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا۔