آرمی چیف اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں:الطاف حسین

،تصویر کا ذریعہ
متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین نے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے اپیل کی ہے کہ وہ سندھ میں رینجرز کی جانب سے مبینہ طور پر انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیوں کا نوٹس لیکر ’مہاجروں‘ کو ذہنی اذیت اور مشکلات سے نجات دلائیں ۔
اتوار کو لندن سے بذریعہ ٹیلیفون کراچی میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے الطاف حسین نے الزام عائد کیا کہ چند ماہ کے دوران رینجرز کے ہاتھوں ایم کیو ایم کے کئی گرفتار کارکنان لاپتہ ہیں، جن میں سے گذشتہ چند ماہ کے دوران مبینہ طور پر پانچ سے زائد کارکنان کا ماورائے عدالت قتل بھی کیا جا چکا ہے۔
الطاف حسین نے 1992 کے فوجی آپریشن کا حوالہ دیا اور کہا کہ اس نے فوج اور اردو بولنے والوں کے درمیان بددلی اور نفرتوں کو پیدا کیا۔
ان کے مطابق کراچی میں جاری آپریشن کی منظوری وفاقی اور سندھ کی حکومت نے مل کر دی لیکن بار بار کی شکایت کے باوجود نہ تو وزیراعظم اور نہ ہی وزیر داخلہ نے جائز شکایتوں کا نوٹس لیا جبکہ سندھ کی حکومت نے پولیس کے ذریعے ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن کے لیے دستے تیار کیے ہیں۔
الطاف حسین نے پاکستان کے فوجی سربراہ کو مخاطب کر کے کہا کہ جب فوج اور وفاقی حکومت کے ماتحت چلنے والے ادارے قانون کے نفاذ کرنے کے بجائے خود قانون شکنی کا عمل شروع کر دیں، تو کیا اس سے ملک میں اتحاد ویکجہتی کی فضا قائم ہوگی یا نفرت و تعصب میں اضافہ ہوگا؟
ایم کیو ایم کے سربراہ نے جنرل راحیل شریف سے اپیل کی کہ وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں ورنہ حالات مزید غلط فہمیوں، بدگمانیوں اور نفرتوں کی طرف جائیں گے۔
دوسری جانب کورنگی پولیس نے سنیچر کی شب حراست میں لیے جانے والے ایم کیو ایم کے کارکن محمد فہد کو شخصی ضمانت پر رہا کر دیا ہے۔
ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ انہیں اپنی شادی کی تقرریبات کے دوران گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر تشدد کیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
محمد فہد پر تشدد کے الزام میں چار پولیس اہلکاروں کو بھی معطل کیا گیا ہے۔
ایڈیشنل آئی جی کراچی شاہد حیات کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن کسی ایک جماعت کے خلاف نہیں جرائم پیشہ افراد کے خلاف ہے اور پولیس ماورائے عدالت قتل میں ملوث نہیں۔







