مظفر گڑھ ’زیادتی‘، چیف جسٹس کا ازخود نوٹس

سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ میڈیا میں آنے والی رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ چوبیس جولائی کو رونما ہوا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسپریم کورٹ کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ میڈیا میں آنے والی رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ چوبیس جولائی کو رونما ہوا
    • مصنف, ارم عباسی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، اسلام آباد

سپریم کورٹ کے ایک بیان کے مطابق چیف جسٹس نے ذرائع ابلاغ میں’پنچایت کے حکم پر ایک خاتون سے مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی‘ کے واقعے کی خبروں کا نوٹس لیتے ہوئے حکام کو رپوٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں انگریزی اخبار ڈان کی رپورٹ کا ذکر کیا گیا ہے جس کے مطابق یہ واقعہ 24 جنوری کو رونما ہوا۔

رپورٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ مظفر گڑھ سے تقریباً 80 کلومیٹر کے فاصلے پر احسان پور ٹاؤن کے نزدیک گاؤں ردی والہ میں پنچایت کے حکم پر ایک متعلقہ خاتون کو مبینہ طور پر برہنہ کیا گیا۔

ہفتے کو چیف جسٹس آف پاکستان نے واقعے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے چار فروری کو رپورٹ طلب کر لی ہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک گاؤں والے نے اس خاتون کے بھائی پر الزمات عائد کیا تھا کہ اس کے بھائی کے اس کی (شکایت کنندہ) اہلیہ کے ساتھ مراسم ہیں اور اس کے لیے پنچایت بلائی جائے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پنچایت کی نشست چند منٹ جاری رہی۔ پنچایت کے سربراہ نواز نے حکم صادر کیا کہ شکایت کنندہ کی جانب سے مرد اس عورت کے ساتھ جنسی زیادتی کریں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس عورت کو ایک کمرے میں لے جایا گیا جہاں شکایت کنندہ کی جانب سے ایک مرد نے ان کو برہنہ کیا اور مارا پیٹا۔

اس سے قبل وزیر اعلیٰ پنجاب نے اس واقعے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا تھا۔

سماجی رہنما مختاراں مائی نے ردی والہ کے واقعہ کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر انصاف سے کام لیا جاتا تو ایسے واقعات سے بچا جاسکتا تھا۔

واضح رہے کہ مختاراں مائی کے 2002 میں مظفر گڑھ میں پنچایت کے حکم پر ہی جنسی زیادتی کی گئی تھی۔